اسرائیل میں جاپانی وزیراعظم کو جوتے میں میٹھا پیش کردیا گیا

اسرائیل میں جاپانی وزیراعظم کو جوتے میں میٹھا پیش کردیا گیا

اپنی اہلیہ کے ہمراہ اسرئیل کے دورے پر موجود جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی دعوت پر سرکاری عشائیے پر پہنچے تو انہیں دھات سے بنے جوتے میں میٹھا پیش کیا گیا جس پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

کھانے کے بعد کچھ میٹھا تو ہونا ہی چاہیے لیکن میٹھا کسی پیالے کے بجائے جوتے میں پیش کیا جائے تو آپ کو کیسا لگے گا؟

جی ہاں ایسا ہی کچھ اسرائیل میں جاپانی وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کے ساتھ بھی ہوا۔ یہ واقعہ ہے 2 مئی کا جب جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے اور ان کی اہلیہ ایکائی ایبے دن بھر کی ہائی پروفائل ملاقاتوں کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ پہنچے جہاں ان کیلئے خصوصی عشائیے کا انتظام کیا گیا تھا۔

کھانے کی میز پر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو بھی موجود تھیں۔ اس موقع پر مہمانوں کی تواضع اسرائیل کے معروف شیف سیگیوف موشے کے تیار کردہ لذیذ کھانوں سے کی گئی۔

کھانے کے بعد میٹھے کی باری آئی تو شیف نے دو جوتوں میں موجود چاکلیٹس ڈائننگ ٹیبل پر لاکر رکھ دیں جسے دیکھ کر جاپانی وزیراعظم اور ان کی اہلیہ حیران رہ گئے۔

البتہ جن جوتوں میں میٹھا پیش کیا گیا وہ اصلی نہیں تھے بلکہ خاص دھات سے تیار کردہ جوتے کا ماڈل تھا۔ جاپانی وزیراعظم نے تو میٹھا کھالیا لیکن جاپانی سفارتکار سیخ پا ہوگئے اور سوشل میڈیا پربحث چھڑگئی۔

سلیبرٹی شیف موشے نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی انوکھی سویٹ ڈش کی تصاویر شئیر کیں تو وہ شدید تنقید کی زد میں آگئے۔

لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ آخر دنیا کی کس تہذیب میں مہمان کو جوتے میں کھانا پیش کیا جاتا ہے؟ جاپان کے سینیئر سفارتکاروں نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سویٹ ڈش پیش کرنے والے کیا یہ نہیں جانتے کہ جاپانی تہذیب میں جوتوں کو اس حد تک ناپاک سمجھا جاتا ہے کہ انہیں گھر میں داخل ہونے سے پہلے باہر اتار دیا جاتا ہے، گھروں کے اندر اور یہاں تک کہ دفاتر میں بھی جوتوں سے اجتناب کیا جاتا ہے، یہ سراسر جاپانی وزیراعظم کی توہین ہے۔

ایک اور جاپانی سفارتکار نے اسرائیلی میڈیا کو انٹرویو میں بتایا کہ دنیا کی کسی بھی تہذیب میں کھانے کی میز پر جوتے نہیں رکھے جاتے، شیف نے کیا سوچ کر ایسا کیا؟ اگر یہ مذاق تھا تو بہت ہی برا مذاق تھا، ہمیں اپنے وزیراعظم کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے پر دکھ ہوا۔

اس حوالے سے اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کھانے میں پیش کی جانے والی ڈشز کی منظوری وزارت خارجہ نے نہیں دی تھی، ہم شیف کا احترام کرتے ہیں اور اسے سراہتے ہیں، وہ انتہائی تخلیقی ذہن رکھتا ہے۔

بعد ازاں جاپانی سفارتکاروں میں غم و غصے کی لہر دوڑنے کی رپورٹ شائع ہونے کے بعد اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک اور بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ہم جاپانی وزیراعظم کا بہت احترام کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے جب اسرائیلی وزیراعظم کے عشایئے میں شرکت کی تھی تب بھی شیف نے انوکھے طریقے سے میٹھا پیش کیا تھا اور جس پلیٹ پر میٹھا رکھا گیا تھا اس پر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی تصویر بنی ہوئی تھی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*