بھاشا ڈیم اور ڈیم فنڈ پر خواجہ آصف کے نکتے پر شاہ محمود قریشی کا جواب

بھاشا ڈیم اور ڈیم فنڈ پر خواجہ آصف کے نکتے پر شاہ محمود قریشی کا جواب

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے ایوان میں مطالبہ کیا کہ ڈیم فنڈ اور واٹر پالیسی کو متنازع نہ بنایا جائے جس پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر کوئی ابہام نہیں ہے۔

اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اپریل 2018 میں چاروں صوبوں نے جس واٹر پالیسی پر دستخط کیے اس میں اس میں بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم پر اتفاق کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ واٹر پالیسی کا معاملہ 2003 سے زیرالتوا تھا جو اپریل 2018 میں حل ہوا جس کا کریڈٹ مسلم لیگ (ن) کو جاتا ہے، گزارش ہے کہ جن مسائل سے وفاق کے درمیان تنازع کھڑا ہوتا ہے اسے نہیں چھیڑنا چاہیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ 150 ارب روپے بھاشا ڈیم پر خرچ ہوچکے، 122 ارب روپے اس کی زمین پر خرچ ہوئے اور 23 ارب روپے سالانہ اس ڈیم کے لیے فکس ہیں، ڈیم کو 9 سال میں مکمل ہونا ہے، اگر آپ اسے جلد مکمل کرنا چاہتے ہیں تو 23 ارب کو 40 ارب پر لے جائیں اور 5 سے 6 سال میں مکمل کرسکتے ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ڈیم پر تنازع ہماری تاریخ کا حصہ ہے، وہ غلط ہے یا صحیح یہ الگ بات ہے، اس حوالے سے 2018 میں چاروں صوبوں میں معاہدہ ہوچکا ہے جس میں سب چیز کلئیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیم کے لیے چندہ جمع کرنا احسن اقدام ہے اس میں تمام لوگوں کا حصہ شامل ہوگا، اگر 10، 20 یا 200 ارب روپے چندے میں جمع ہوجائیں تو وہ بھی شامل کریں لیکن اگر کسی کو اختلاف ہے تو اس پر بات کریں اور اس حوالے سے جو متتفقہ معاہدہ ہوچکا اس کو آگے لے کر چلیں۔

خواجہ آصف نے کہا یہاں عرض کرنا چاہتا ہوں، مریض کو جتنی بوتلیں خون کی لگالیں جب تک اس کا خون بہنا بند نہیں ہوتا اس وقت تک مریض کی جان نہیں بچے گی، اس لیے ڈیم کے ساتھ ساتھ پانی بچت کے ذخائر بھی بنانا ہوں گے، جب صرف ڈیم کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ابہام پیدا ہوتا ہے، اس پر کوئی تنازع نہیں کہ ہمیں پانی کی کمی کا سامنا ہے اور اس کا سدباب کرنا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*