سندھ ہائیکورٹ نے آئی جی اللہ ڈنو خواجہ کو ممکنہ طور پر عہدے سے ہٹانے کے خلاف حکم امتناع جاری کردیا

سندھ ہائیکورٹ نے آئی جی اللہ ڈنو خواجہ کو ممکنہ طور پر عہدے سے ہٹانے کے خلاف حکم امتناع جاری کردیا

سندھ ہائیکورٹ نے آئی جی اللہ ڈنو خواجہ کو ممکنہ طور پر عہدے سے ہٹانے کے خلاف حکم امتناع جاری کردیا۔اس حوالے سے عدالت میں 7درخواست گزاروں کی جانب سے درخواستیں دائر کردی گئی ہیںجن میں معروف گلوکار شہزاد رائے بھی شامل ہیں،درخواست میں پولیس آرڈر2002ء کو چیلنج کیا گیا ہے۔سندھ ہائی کورٹ میں آئی جی سندھ کی جبری رخصتی کے خلاف 7 درخواست گزاروں کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ اے ڈی خواجہ اچھی شہرت کے حامل آفیسر ہیں، انہوں نے محکمہ پولیس میں میرٹ پر بھرتیاں کیں، انہیں میرٹ پر کام کرنے کی وجہ سے ہٹاکر جبری رخصت پر بھیجا گیا ہے۔درخواست گزاروں کے مطابق گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر سعید غنی ٹی وی ٹاک شو میں کہہ چکے ہیں کہ اے ڈی خواجہ کو ایسے حالات میں واپس نہیں آنا چاہئےجس کا مطلب ہے کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ہٹایاجارہا ہے۔عدالت نے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو ممکنہ طور پر عہدے سے ہٹانے کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے وفاقی وصوبائی حکومت اوراے ڈی خواجہ کو نوٹس جاری کردئیے۔عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہو ئے مزید سماعت 12 جنوری تک ملتوی کردی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*