شہرِ قائد میں پولیس والے منشیات فروشوں کے سہولت کار نکلے

شہرِ قائد میں پولیس والے منشیات فروشوں کے سہولت کار نکلے

شہر قائد میں قائم منظم منشیات فروشی کے اڈوں کی پوری تفصیلات سامنے آگئیں، تین پولیس والے ملزمان کے سہولت کار نکلے ۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے ریڑھی گوٹھ، ابراہیم حیدری اور شرافی گوٹھ میں منشیات فروشوں کے کئی گروہ قائم ہیں، یہ گروہ اتنے منظم ہے کہ اپنے خلاف کارروائی کرنے والے پولیس افسران کا تبادلہ کرانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ منشیات کی ترسیل اور فروخت میں خواتین کا بھی استعمال کیا جاتا ہے ، لیاقت نامی منشیات فروش اور اس کی بیوی بھی ایسے ہی گروہوں میں سے ایک ہیں جو کہ منشیات کی فراہمی کا کام کرتے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ منشیات کے دھندے میں مبینہ طور پر تین پولیس اہلکار بھی ملوث ہیں جن کی مدد سے رات کے اندھیرے میں بند پولیس چوکی سے منشیات کی سپلائی کی جاتی ہے جبکہ انہی کی مدد سے باہر سے آنے والے ملزمان کو محفوظ راستہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عمر ، آدم اور رستم نامی تین پولیس اہلکار ، منشیات فروشی میں پیش پیش ہیں جن میں سے عمر اور آدم معطل ہیں اور ان دنوں ہیڈ کوارٹر میں تعینات ہیں جبکہ رستم کو سنگین جرائم کے سبب نوکری سے برطرف کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود یہ تینوں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مبینہ طور پر ان تینوں کو ابراہیم حیدری تھانےکے ایس ایچ او علی حسن کی سرپرستی بھی حاصل ہے ، یہ وہی ایس ایچ او ہیں جوکہ اس سے قبل شاہ راہِ فیصل تھانے میں تعینات تھے اور مقصود قتل کیس میں بھی ملوث تھے ، تاہم اس کیس سے وہ مکھن کے بال کی طرح نکل آئے۔

یہ منشیات فروش عناصر ابراہیم حیدری تھانے اور سکھن تھانے کی حدودمیں آتے ہیں اور تھانوں کی حدودکافائدہ اٹھا کرجرائم پیشہ عناصر اپنا کام کر گزرتےہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ابراہیم حیدری پولیس منشیات فروشوں کےخلاف مربوط کارروائی نہیں کرتی جبکہ شرافی گوٹھ اور ابراہیم حیدری تھانے میں جرائم پیشہ عناصر کےسہولت کارہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*