میری چوری شدہ تقریر نشر ہونے سے روکی جائے: بچے کی استدعا

میری چوری شدہ تقریر نشر ہونے سے روکی جائے: بچے کی استدعا

ایک گیارہ سالہ بچے سبیل حیدر کی تقریر کسی اور بچے سے کروادی گئی ، اس نے حق کے حصول کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکٹا دیا۔سبیل حیدر نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے کہا ہے کہ اس کی تقریر چوری کرلی گئی ہے، یوم قائد پر اس چوری شدہ تقریر کو نشر ہونے سے روکا جائے۔ایوان صدر میں 25 دسمبر کی تقریب کا عنوان ہے ’قائد اعظم اور بچے‘اور بچوں نے اس میں تقاریر کرنی ہیں، ہر بچے سے اسکرپٹ پہلے منگوایا گیا، منظوری کے بعد بچوں کو دے کر ایک ہفتہ ریہرسل کرائی گئی،مگر 11 سالہ سبیل حیدر حتمی ریکارڈنگ کے دوران اپنی باری کا انتظار کرتا رہااور اس کی تقریر کسی اور سے کرا دی گئی۔اس چوری اور سینہ زوری کے خلاف بچے نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا ہے اور ایوان صدر کے سیکریٹری اور ایڈیشنل سیکریٹری کو فریق بنایا ہے۔سبیل حیدر 23 مارچ کو ایوان صدر میں ہی ہونے والی تقریب میں تقریر کر کے تعریفی سرٹیفکیٹ حاصل کر چکا ہے، اب اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں بچے نے استدعا کی ہے کہ اس کی چوری کی گئی تقریر 25 دسمبر کو سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے سے روکی جائے، اس نے اس تقریر کی تیاری کے لیے اپنے 2 پیپرز کی قربانی بھی دی ہے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*