نقیب اللہ قتل کیس: تفتیشی افسر کو مفرور ملزمان سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی آخری مہلت

نقیب اللہ قتل کیس: تفتیشی افسر کو مفرور ملزمان سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی آخری مہلت

کراچی: انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کے تفتیشی افسر کو مفرور ملزمان سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی آخری مہلت دی ہے۔ 

انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت کی جس کے دوران سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار اور دیگر ملزمان پیش ہوئے جب کہ کیس کے تفتیشی افسر ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان بھی عدالت کے روبرو حاضر ہوئے۔

اس موقع پر تفتیشی افسر نے عدالت میں رپورٹ جمع کرائی جس میں بتایا گیا کہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں اور انہیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

عدالت نے تفتیشی افسر کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے انہیں مفرور ملزمان سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی آخری مہلت دی اور مفرور ملزمان کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت، شعیب شوٹر سمیت 10 سے زائد ملزمان شامل ہیں۔

تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ مقتولین کے خلاف درج مقدمات بی کلاس کرنے کی رپورٹ پر بھی فیصلہ سنایا جائے جس پر عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت پر مقدمات بی کلاس کرنے سے متعلق رپورٹ پر دلائل سنے جائیں گے۔

عدالت نے قرار دیا کہ مقدمات منتقلی کی درخواست ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں اور ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے تک عدالت بی کلاس پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت 31 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

عدالت کے باہر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے کہا کہ تفتیشی افسر کی ہائیکورٹ میں پیش رپورٹ جھوٹ پر مبنی ہے اور وہ غلط بیانی کررہے ہیں میں اپنی رہائش گاہ پر موجود ہوں۔

راؤ انوار نے کہا کہ عدالت جب بھی بلاتی ہے میں پیش ہوتا ہوں اور اثاثوں کی جھان بین سے متعلق نیب انکوائری کا علم نہیں۔

نقیب اللہ قتل کیس— کب کیا ہوا؟

رواں برس 13 جنوری کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے ایک نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کر مقابلے میں مار دیا تھا۔

بعدازاں 27 سالہ نوجوان نقیب محسود کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر اس کی تصاویر اور فنکارانہ مصروفیات کے باعث سوشل میڈیا پر خوب لے دے ہوئی اور پاکستانی میڈیا نے بھی اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔

جس کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور سابق وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کو انکوائری کا حکم دیا۔

نقیب اللہ کے والد خان محمد کی جانب سے درج کروائے گئے واقعے کے مقدمے میں راؤ انوار کو نامزد کیا گیا تھا۔

بعدازاں پولیس کے اعلیٰ افسران پر مشتمل کمیٹی نے معاملے کی تحقیقات کرکے راؤ انوار کے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیا اور نقیب اللہ کو بے گناہ قرار دے کر پولیس افسر کی گرفتاری کی سفارش کی تھی۔

تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کردیا گیا، جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر از خود نوٹس بھی لیا گیا تھا۔

ملزم راؤ انوار کچھ عرصے تک روپوش رہے تاہم 21 مارچ کو وہ اچانک سپریم کورٹ میں پیش ہوگئے جہاں عدالت نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔

بعدازاں ضمانت ملنے کے بعد راؤ انوار کو 21 جولائی کو رہا کردیا گیا تھا، تاہم نقیب اللہ قتل کیس فی الوقت تعطل کا شکار ہے اور اس میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*