نواز شریف کواڈیالہ جیل سے احتساب عدالت پہنچا دیا گیا

نواز شریف کواڈیالہ جیل سے احتساب عدالت پہنچا دیا گیا

احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کررے ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کو آج سخت سیکیورٹی میں احتساب عدالت میں لایا گیا جبکہ خواجہ حارث آج بھی واجد ضیاء پر جرح کررہے ہیں۔

استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے کہا کہ ماڈرن انڈسٹری سے متعلق ایم ایل اے سعودی عرب نہیں بھیجا، جب سعودی عرب کو خط لکھا اس وقت کمپنی کا مکمل نام معلوم نہیں تھا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ ایم ایل اے صرف ایچ ایم ای سے متعلق سعودی عرب کو لکھا گیا،اس وقت کمپنی کے مکمل نام سے متعلق دستاویزدستیاب نہیں تھیں۔

واجد ضیاء نے کہا کہ دستاویز کے مطابق کمپنی اسٹیل کے کاروبارسے متعلق ہے، ایم ایل اے لکھنے سے ایک دن قبل حسین نوازشامل تفتیش ہوئے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ تفتیش میں جے آئی ٹی کےعلم میں آیا ہل میٹل کا پورا نام کیا ہے اور جو دستاویزات دیے گئے اس میں کسی کا ایڈریس دیا گیا تھا؟۔

جے آئی ٹی سربراہ نے بتایا کہ دستاویزات میں آفس ایڈریس اور پی او باکس نمبر دیا ہوا تھا۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ ہل میٹل کمپنی ہے، کارپوریشن ہے یا پراپرئٹرشپ ہے جس پر واجد ضیاء نے جواب دیا کہ دستاویزات میں ایسی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

واجد ضیاء نے بتایا کہ اس کاروبارکو دستاویزات میں اسٹیل بنانے کا کاروبارہی لکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ 30 جولائی2017 کوحسین نوازشامل تفتیش ہوئے۔

خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا حسین نوازسے آپ نے پوچھا ہل میٹل کمپنی ہے یا کارپوریشن؟ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ جےآئی ٹی نے حسین نوازسے اس بارے میں نہیں پوچھا۔

استغاثہ کے گواہ نے بتایا کہ 31مئی2017 کوجب ایم ایل اے بھیجا تومعلوم نہیں تھا، نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ کیا یہ درست ہے آپ نے ایم ایل اے میں ہل میٹل کوکمپنی لکھا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ ایک جگہ پرہم نے کمپنی کا لفظ استعمال کیا ہے، حسین نوازکی پیش دستاویزات میں ایچ ایم ای کوفرد واحد پروپرائٹرظاہرکیا گیا۔

خواجہ حارث نے سوال کیا کہ کیا آپ عربی سمجھ لیتے ہیں جس پر واجد ضیاء نے جواب دیا کہ کچھ وقت سعودی عرب میں گزارا اس لیے تھوڑی سمجھ لیتا ہوں۔

استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے بتایا کہ اہم تھا کمپنی فرد واحد کسی کی ملکیت ہے یہ شراکت داری پرہے، مخصوص سوال نہیں پوچھا۔

احتساب عدالت میں دوران سماعت گفتگو کرنے پر معزز جج کی جانب سے طارق فضل چوہدری اور پرویز ملک پربرہمی کا اظہار کیا گیا۔

جج ارشد ملک نے کہا کہ پہلے بھی کہا تھا یہاں بیٹھنا ہے توبندے بن کربیٹھیں، میاں صاحب سے بات کریں توسمجھ آتی ہے، عدالت میں بیٹھ کرآپس میں گفتگو کا کیا جواز بنتا ہے۔

وکیل صفائی خواجہ حارث نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔

احتساب عدالت میں گزشتہ روز سماعت کے دوران واجد ضیاء سے جرح کرتے ہوئے خواجہ حارث نے کہا تھا کہ کیا جے آئی ٹی نے الداد آڈٹ بیورو کے کسی آفیشل سے رابطے کی کوشش کی ؟۔

جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے ایم ایل اے بھیجا تھا۔

عدالت میں سماعت کے دوران خواجہ حارث نے کہا تھا کہ جرح کر رہا ہوں دونوں پراسیکیوٹرز آپس میں بات نہ کریں، اس سے میں ڈسٹرب ہوتا ہوں۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ مجھے عدالت کہے تومیں بات نہیں کروں گا، آپ ڈکٹیٹ نہ کریں، عدالت نے نیب پراسکیوٹر کو دوران جرح بات نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*