پاکستان کے سمندروں میں جعلی فش کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے ماہی گیری پریشان

پاکستان کے سمندروں میں جعلی فش کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے ماہی گیری پریشان

جیلی فش کی بڑھتی ہوئی تعداد سےپاکستان کے سمندروںمیں اس کی بڑی تعداد  مو  جو د ہے جس کی وجہ سے  مقامی ماہی گیر سخت پریشان ہیں کیونکہ جب وہ سمندر میں مچھلیاں پکڑنے جاتے ہیں تو قابلِ فروخت مچھلیوں کے بجائے یہ جیلی فش ان کے جال میں پھنس جاتی ہیں۔پاکستان کے سمندری ماحول جیلی فش کی اتنی بڑی تعداد بہت کم ہی پاکستانی سمندر میں دیکھی جاتی ہے۔حالانکہ پاکستانی سمندری حدود میں بحری حیات (میرین لائف) کے جائزوں میں یہ بات پہلے ہی معلوم ہوچکی ہے کہ مچھلیوں کے حد سے زیادہ شکار اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں یہاں عام مچھلیاں بہت کم رہ گئی ہیں جبکہ ان کے برعکس جیلی فش کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے جو سمندری ماحول کے لیے شدید خطرہ ہے۔بحری حیات کے ماہرین پچھلے 20 سال سے مسلسل خبردار کرتے آرہے ہیں کہ پاکستان کے سمندروں میں باریک جالوں اور بڑے بحری جہازوں سے مچھلیاں پکڑنے پر پابندی لگائی جائے ورنہ یہاں مچھلیاں بالکل ختم ہوجائیں گی اور مقامی ماہی گیروں کا کاروبار بھی ٹھپ ہوجائے گا۔مختلف غیرملکی کمپنیاں پاکستان کی سمندری حدود میں حکومت کی اجازت سے وسیع پیمانے پر، بڑے جہازوں کے ذریعے مچھلیاں پکڑتی ہیں اور اس مقصد کے لیے باریک جال استعمال کیا جاتا ہے جس میں مچھلیوں کے چھوٹے بچے بھی پھنس کر ہلاک ہوجاتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*