پروفیسر کی لاش کو بھی ہتھکڑی لگانے والے پولیس اہلکاروں کو سزا دید ی گئی

پروفیسر کی لاش کو بھی ہتھکڑی لگانے والے پولیس اہلکاروں کو سزا دید ی گئی

 محکمہ داخلہ پنجاب نے سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر کی موت کے بعد بھی ہتھکڑی نہ ہٹانے پر ایک سینئر ڈاکٹر اور کیمپ جیل کے 3 پولیس افسران کو معطل کردیا۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر احمد ذوالفقار، اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) عبدالقیوم، ہیڈ کانسٹیبل محمد اعظم اور کانسٹیبل عمران، جو جیل خانہ جات میں تعینات کو فرائض میں غفلت برتنے پر معطل کیا گیا۔
 دوسری جانب ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جیل خانہ جات ملک مبشر کی جانب سے واقعے کی جمع کرائی گئی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا کہ جیل حکام نے میاں جاوید احمد کو بغیر ہتھکڑی کے پولیس کے حوالے کیا تھا۔ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں ہیڈ کانسٹیبل محمد اعظم، کانسٹیبل عمران اور خلیل نے ہسپتال میں ملزم کے ہتھکڑی لگائی تھی۔
اس میں مزید کہا گیا کہ میاں جاوید احمد کے جسم پر موجود ہتھکڑی پولیس کی ہے اور جیل حکام کے پاس اس معیار کے مطابق ہتھکڑی نہیں ہے۔

رپورٹ میں ریسکیو اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ میاں جاوید احمد کو جیل سے بغیر ہتھکڑی کے لایا گیا تھا۔تاہم ہیڈ کانسٹیبل محمد اعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ مجسٹریٹ کے حکم کے بغیر ہتھکڑی نہ ہٹانے کے احکامات کے بنیادی طریقہ کار پر عمل کر رہے تھے۔

قبل ازیں جیل حکام کے مطابق میاں جاوید احمد کو ’سینے‘ میں درد کی شکایت پر سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ انتقال کر گئے تھے، تاہم لاش کی ہتھکڑی لگی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں اور انتظامیہ کو سخت تنقید کا سامنا تھا۔خیال رہے کہ اکتوبر میں کرپشن کیس میں میاں جاوید کو سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری اور دیگر 4 عہدیداروں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*