پرویز مشرف کے چار معاہدے

پرویز مشرف کے چار معاہدے

مظہر عباس…سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کو ملک چھوڑ کر جانے کی اجازت دیا جانا اور خودساختہ جلاوطنی کرنا چاہے کسی معاہدے کا حصہ ہو، جس کا انکشاف انہوں نے خود ہی کیا۔ اس کا مخصوص حلقوں کی جانب سے جواب آنا باقی ہے۔ اپنے دور میں پرویز مشرف نے اس ایک کے علاوہ تین معاہدے اور بھی کئے لیکن ایک بات یقینی ہے کہ یہ ’’شخص قانون سے بالاتر ‘‘ہے۔

سن2001میں وزیر اعظم نواز شریف کی رہائی کے لئے انہوں نے سعودی شاہی خاندان سے معاہدہ کیا۔ 2007میں بے نظیر بھٹو سے معاہدہ کیا جسے آصف علی زرداری کے ساتھ ’’این آر او‘‘ معاہدہ قرار دیا گیا جس کے نتیجے میں انہیں محفوظ راستہ دیا گیا اور کوئی مقدمہ نہ چلانے کا کہا گیا۔ اب انہوں نے خود ہی ایک نیا تنازع چھیڑ دیا ہے۔ 2013میں واپس نہ آنے کے لئے انہوں نے آئی ایس آئی سربراہوں کا مشورہ نہ مانا جو سیکورٹی وجوہات اور نواز شریف کی انتخابی کامیابی کے امکان کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ نواز شریف اپنی کامیابی کی صورت میں پرویز مشرف پر مقدمہ چلانے کا ارادہ رکھتے تھے۔

سابق صدر اور آرمی چیف کے انکشاف نہ صرف حکومت اورجنرل (ر)راحیل شریف کے لئے پریشانی کا باعث بنا بلکہ اس نے سنجیدہ سوالات کو بھی جنم دیا کہ پرویز مشرف پر مقدمے کو سول ملٹری تعلقات میں رکاوٹ سمجھا گیا۔ حالانکہ یہ اس شخص کے خلاف سادہ سا مقدمہ تھا جس نے آئین توڑا کا ’’انتہائی غداری‘‘ کا ارتکاب کیا۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اس لئے پھانسی چڑھادیئے گئے کیونکہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) ضیاء الحق مرحوم کو خدشہ تھا کہ اگر انہوں نے انتخابات کرائے اور پیپلزپارٹی دوبارہ جیت گیئ تو بھٹو مرحوم آرٹیکل۔6کے تحت ان پر انتہائی غداری کا مقدمہ چلاسکتے ہیں۔

سن 1988میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کے امکانات گھٹانے کے لئے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) تشکیل دیا گیا۔ اس وقت کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ڈر تھا اگر بے نظیر کو موقع مل گیا تو وہ انتقام  لیں گی۔ یہ بھی تاریخ کا معاملہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے نظریہ ضرورت کے تحت غیر قانونی احکامات کو قانونی تحفظ فراہم کیا ۔ 2001کے ظفر علی شاہ کیس میں پرویز مشرف کو بھی یہی تحفظ دیا گیا۔ اس طرح ماضی میں عدلیہ آئین کو تحفظ دینے میں ناکام رہی۔ تمام مارشل لاء ادوار کو جواز فراہم کیا۔

سیاسی حکمرانوں کو کرپشن، آئینی خلاف ورزیوں اور بدتر طرز حکمرانی پر سزا دی جانی چاہئے لیکن آئین کی نظر میں سب سے بڑا جرم خود آئین کی تنسیخ ہے جسے سیاسی فوجی تعلقات میں تعطل کا ایشو بنایا گیا لیکن انتہائی غداری کا مقدمہ ہی پرویز مشرف کے خلاف بڑی اہم نوعیت کا نہیں ہے بلکہ بے نظیر بھٹو، نواب اکبر بگٹی کے مقدمات ہائے قتل اور لال مسجد آپریشن کا مقدمہ  بھی برابر کی اہمیت کے حامل ہے جن میں وہ نہ صرف مطلوب بلکہ ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوچکے ہیں۔

  

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*