پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کا 90 واں یوم پیدائش

Re: Emailing: 95102469.jpg_On 2013-08-20, at 11:51 AM, Colbourn, Glen wrote:__<> STOCKHOLM, SWEDEN - FEBRUARY 23: Pakistani President_Zulfikar Ali Bhutto arrives in Stockholm on February 23, 1976. Zulfikar_Ali Bhutto is the President of Pakistan from 1971 to 1973 and Prime_Minister from 1973 to 1977. He was the founder of the Pakistan Peoples_Party (PPP), the largest and most influential political parties of_Pakistan. (Photo by AFP/Getty Images) _

پاکستانی سیاست کا رخ تبدیل کرنے والی شخصیت اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کا آج 90 واں یوم پیدائش ہے۔پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں سر شاہنواز بھٹو کے جاگیر دار گھرانے میں آنکھ کھولی۔اگرچہ ذوالفقار علی بھٹو کے والد سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلیٰ حکومت بمبئی اور جوناگڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان تھے، لیکن بھٹو نے سیاست ہمیشہ عوامی کی اور پاکستان میں ‘قائدِ عوام’‎‎ یعنی عوام کا رہبر اور ‘بابائے آئینِ پاکستان’ بھی کہلائے گئے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی میں موجود اس تضاد نے ہی ان کی شخصیت اور سیاست دونوں کو منفرد بنائے رکھا۔عوام کو ان کی شناخت دلانے اور سیاست کو امیروں کے ڈرائنگ روم سے نکال کر گلی گلی تک لانے اور ان میں سیاسی شعور بیدار کرنے کا سہرہ ذوالفقار علی بھٹو ہی کے سر تھا۔

بھٹو کا ‘روٹی، کپڑا اور مکان’ کا نعرہ بھی بہت مشہور ہوا۔

بات اسلامی دنیا کو اکٹھا کرنے کی ہو یا ملک کو متفقہ آئین دینے کی، ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ہی انداز میں سیاست کی اور آمر کے سامنے سر جھکانے سے زیادہ جمہوریت اور عوام کی خاطر مقتل کو ترجیح دی۔واضح رہے کہ جنرل محمد ضیا الحق کے مارشل لاء دور میں ستمبر 1977ء میں نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں بھٹو کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا، جس کی توثیق 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے بھی کردی کر دی اور بعدازاں4 اپریل 1979کو بھٹو کو راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔یہ بھٹو کی عزم و ہمت ہی تھی کہ ان کے جیالے آج بھی یہی مانتے ہیں کہ ‘کل بھی بھٹو زندہ تھا، آج بھی بھٹو زندہ ہے’۔ذوالفقار علی بھٹو سے جیالوں کی عقیدت اور لگاؤ نسل در نسل چلا آرہا ہے اور اتنے برس گزرنے کے باوجود بھی اس میں کمی نہیں آئی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*