چینی زیادہ کھانے کے یہ نقصانات جانتے ہیں؟

چینی زیادہ کھانے کے یہ نقصانات جانتے ہیں؟

کیا شکر یا چینی زہر ہے؟ اس کا انحصاراس بات پر ہے کہ ایک پاکستانی اوسطاً کتنی چینی روزانہ ہضم کرلیتا ہے جیسے عالمی ادارہ صحت نے روزانہ 25 گرام شکر کو صحت کے لیے موزوں قرار دیا ہے تاہم اوسطاً ہر پاکستانی روزانہ 62 گرام یہ میٹھا زہر اپنے جسم کا حصہ بناتا ہے۔تاہم کیا آپ کو معلوم ہے کہ چینی کی یہ زیادہ مقدار کو ہمارا جسم کس انوکھے انداز سے ذخیرہ کرتا ہے؟ اگر نہیں! تو جان لیں، کیونکہ اس کے بغیر میٹھے سے دوری اختیار کرنا کافی ناممکن ہوگا۔

شکر جسمانی اعضا پر چربی چڑھاتی ہے

شکر میں موجود عنصر مونو سکیرائیڈ آپ کے جگر کو زیادہ چربی جمع کرنے پر مجبور کرتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ فیٹی لیور نامی بیماری میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

شکر جسم کو ذیابیطس کا شکار بناتی ہے

ایک طبی تحقیق کے مطابق شکر کے استعمال سے اگر کوئی فرد روانہ اضافی ڈیڑھ سو کیلیوریز حاصل کرے تو اس میں ذیابیطس کا خطرہ 1.1 فیصد زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

شکر دل کے لیے تباہ کن

اگر آپ شکر سے صرف ذیابیطس سے بچنے کے لیے اجتناب کرتے ہیں تو درحقیقت آپ اپنے دل کو بھی تحفظ فراہم کررہے ہوتے ہیں، کیونکہ امراضِ قلب اور ذیابیطس کے درمیان تعلق موجود ہے۔ امراض قلب اور فالج ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار افراد میں موت کی وجوہات میں سرفہرست ہے۔

شکر سے خون کی شریانوں پر تناﺅ

شکر کے استعمال سے دوران خون میں انسولین بڑھ جاتی ہے، جس کا اثر جسم کے خون کی گردش کے نظام اورشریانوں پر پڑتا ہے، انسولین کی زیادہ مقدار سے شریانوں میں مسلز سیلز کی گردش معمول سے زیادہ تیز ہوجاتی ہے، جس سے شریانوں کی دیواروں میں تناﺅ بڑھتا ہے اور ہائی بلڈپریشر کا شکار کرنے کے بعد فالج یا دل کے دورے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔

شکر کولیسٹرول کا سبب

شکر اور کولیسٹرول کے دوران تعلق موجود ہے، ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ شکر استعمال کرتے ہیں ان میں ذیابیطس اور موٹاپے کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی مقدار بھی زیادہ ہوجاتی ہے، جو کہ جسم کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے، جبکہ یہ خون میں خطرناک چربی کو بڑھاتی ہے۔

ٹائپ تھری ذیابیطس کا خطرہ

ایک تحقیق کے دوران ٹائپ تھری ذیابیطس کی اصطلاح استعمال کی گئی تھی، جو انسولین کی مزاحمت، بہت زیادہ چربی والی غذاﺅں اور الزائمر کے درمیان تعلق بناتی ہے، درحقیقت یہ الزائمر کے شکار افراد کے نظام ہضم کے امراض کا نام ہے جس سے ان کے دماغ کی گلوکوز اور توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچتا ہے، یعنی اسے دماغی ذیابیطس بھی کہا جاسکتا ہے۔

شکر آپ کو جنک فوڈ کا عادی بناتی ہے

شکر کے استعمال سے ایسے کیمیکلز خارج ہوتے ہیں جو دماغ کے خوشی کے احساس کو بڑھاتے ہیں، اور منشیات کی طرح شکر کے استعمال سے ہی خوشی محسوس ہوتی ہے، شکر کے عادی افراد کو جب تک میٹھی چیز نہ ملے وہ ڈر، ذہنی تناﺅ اور ایسے ہی دیگر ذہنی تکالیف کو محسوس کرتے ہیں۔

شکر بھوک کو بڑھا دیتی ہے

شکر آپ کے اندر بھوک کا احساس بڑھاتی ہے، بہت زیادہ شکر کھانے سے دماغ کی پیٹ بھرنے کے احساس کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں انسان کو ہر وقت بھوک کا احساس ہوتا رہتا ہے چاہے اس نے حد سے زیادہ کھانا ہی کیوں نہ کھا لیا ہو۔

شکر کرتی ہے توانائی سے محروم

آپ کو کبھی یہ احساس ہوا کہ چاکلیٹ بار کھاتے ہی آپکے اندر توانائی کی لہر پیدا ہوتی ہے اور پھر جلد ہی آپ تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں۔ درحقیقت شکر کو کھانے کے بعد جسم مزید شکر کا مطالبہ کرنے لگتا ہے اور یہ سائیکل چلتا رہتا ہے۔ جس کے نتیجے میں جب تک آپ کچھ میٹھا کھا نہ لیں آپ کو جسمانی توانائی میں کمی کا احساس ستاتا رہتا ہے۔

شکر کرتی ہے مسکراہٹ متاثر

ہم شکر کو مزاج بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں مگر اس کے اثرات بالکل متضاد ہوتے ہیں، ایک تحقیق کے مطابق مایوسی اور میٹھی اشیاء کے استعمال کے درمیان تعلق ہوتا ہے، چھ سال تک جنک فوڈ کا استعمال ڈپریشن کا خطرہ بڑھا دیتا ہے اور جنک فوڈ میں شکر کا استعمال کافی زیادہ ہوتا ہے۔

چہرے کی تباہی

شکر دوران خون میں ایسے خطرناک نئے مالیکیول کا سبب بنتی ہے جو آپ کی جلد خشک اور ڈھیلی کردیتے ہیں، اور جھریاں پڑجاتی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*