کرسمس موقع پر مسلمانوں کے لیے سانتا ہیٹ پہننا حرام ہے

کرسمس موقع پر مسلمانوں کے لیے سانتا ہیٹ پہننا حرام ہے

انڈونیشی علماء کونسل کی جانب سے فتویٰ جاری کیا گیا کہ کرسمس پر مسلمانوں کے لیے سانتا ہیٹ اور دیگر کرسمس سے متعلق ملبوسات پہننا حرام ہے کیونکہ ہمارے مذہب میں اس کی اجازت نہیں۔کرسمس پر عیسائیوں کو جشن منانے کا حق ہے اور لوگوں کو اسکا احترام کرنا چاہیئے، لیکن اس میں شامل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ حرام ہے، اسلام ہمیں اس کی اجازت نہیں  دیتا جبکہ مسلمانوں کے لیے سانتا ہیٹ اور دیگر کرسمس سے متعلق ملبوسات پہننا حرام قرار دیا گیا ہے ۔ فتوے میں علماء کرام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کرسمس کے موقع پر نگرانی کرے اور ایسے کاروباری افراد کو گرفتار کرکے سزائیں دے، جو مسلمانوں کو کرسمس سے متعلق لباس پہننے پر اکساتے ہیں۔اس فتوے کے بعد اسلام پسندوں کے گروپ ”اسلام ڈیفینڈرز فرنٹ“ کے اراکین نے 200پولیس اہلکاروں کے ساتھ ملک کے دوسرے بڑے شہر سرابیا میں ایک شاپنگ مال پر چھاپہ مارا اور دکانوں کی چیکنگ کی کہ کوئی دکاندار سانتا ہیٹ یا دیگر ایسے ملبوسات خریدنے کے لیے خریداروں پر دباﺅ تو نہیں ڈال رہا۔جکارتہ پوسٹ کے مطابق کچھ کاروباری اداروں میں چھٹی کے موسم میں سانتا ٹوپیاں پہننا تمام ملازموں کیلئے ضروری ہوتا ہے، جن میں بہت سے مسلمان، عیسائی بھی اس جشن میں شامل ہوتے ہیں۔پولیس نے فتوے پر عملدرآمد کروانے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کسی بھی گروپ کے خلاف کارروائی کی جائے گی جو تشدد کے ذریعے اس فتوے پر عملدرآمد کروانے کی کوشش کرے گا، کیونکہ یہ فتویٰ کوئی قانون نہیں ہے۔فتویٰ کے بات ملک بھر میں یہ بحث چھٹ گئی ہے کہ کیا اداروں سانٹا ہیٹ پہننے کیلئے اپنے ملازمین سے پوچھنے کا حق رکھتے ہیں۔اگرچہ فتوی میں لوگوں کو مشورہ دیا کہ اسلام دوسرے کے مذہبی عقائد کے ایمان اور عبادت کے ساتھ الجھانے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کو عیسائیوں کے حق کا احترام کرنا چاہیئے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*