کسان کارڈ

کسان کارڈ

ملک کی  سیاسی تاریخ میں ہر بار عام انتخابات سے قبل کوئی نہ کوئی سیاسی کارڈ ضرور کھیلا گیا،کبھی لال قلعہ اور کشمیر فتح کرنے کی نوید سنائی گئی اور کبھی قرض اتارو ،ملک سنوارو کا نعرہ لگاکر ملک کو سپر پاور بنانے کا خواب دکھایا گیامگر یہ وعدے ، دعوے اور نعرے ہر بار نامکمل و نا ممکن رہے کیونکہ انتخابی جیت کی خوشی نے ہر عہد میں عہد وفا کو چکنا چور کیا۔اب کی بار،نواز سرکار ،پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتیں کسان کارڈ کو مہارت کےساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہی ہیں مگر تاحال یہ کارڈ کسی کی تجوری میں جاتا دکھائی نہیں دیتا ۔اس کی وجہ ان جماعتوں اور وقت کی سرکاروں کے رویے ،لاتعلقی اور لا علمی ہے جس کا اندازہ اس خوفناک حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ کسانوں کا نعرہ لگانے والی سرکار نے وزارت زراعت ایک ایسے شخص کے تابع کی جسے کپاس کے پودے کا دیدار تک نصیب نہ ہوا،اور حلقہ ا حباب میںاکثر کپاس کا پودا دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا کرتے ، خود ہی سوچیے ایسے میں گنجی نہائے گی کیا؟اور نچوڑے گی کیا؟ہاں البتہ کسانوں کے لیے 39ارب کی سبسڈی کا دعوی کرنے والے حکمرانوں نے اپنی تصاویر والے اشتہارات کا بے تحاشہ استعمال کرکے بھاری بھرکم رقم ضائع ضرور کر دی۔خیر یہ تو نقطہ معترضہ اور اس اشتہاری سرکار کا خاصہ ہے جو تحاریک کو ناکام بنانے کے لیے لازم و ملزوم ہے۔ اس بار کسان کارڈ دوسرے سرکاری پتے بھی اڑاتا دکھائی دیتا ہے،کیونکہ حالی و کسان کا ووٹ اب جاگیر اور جاگیر دار کے ڈیرے سے بندھا نہیں رہا۔گزشتہ 6سال سے معاشی قتل عام کا شکار کسان اب جان چکا ہے کہ اسکا ووٹ ہی اس کی زمین اور محنت کی قیمت لگا سکتا ہے،یقین کیجئے میں کسی غلط یاخوش فہمی کا قطعاًشکار نہیں اور نہ ہی اپنی رائے عوامی رائے قراردینے کا عادی ہوں ،کاشتکار کے سیاسی شعور کی بیداری کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا دے سکتا ہوں کہ گزشتہ 3برس کے دوران جب بھی گاوں کا رخ کیا ،سلام دعا سے قبل ہمیشہ یہی سوال سننا پڑا کہ موجودہ حکومت کے کتنے دن باقی ہیں؟زراعت اور زرعی اجناس کی اہمیت سے آگاہ حکومت کب تک آئے گی؟سوال مشکل ہوتا تھا مگر اسکا جواب اس سے بڑھ کر کٹھن تھا،کیونکہ نہ تو میرے ذرائع دور کی لاتے تھے اور نہ ہی بے تکے دلائل سے بھرپور دانش و حکمت کی حدود و قیود اتنی وسیع تھیں،ویسے بھی خبر لانے والیاں چڑیاں پالنا اور ان چڑیوں کا شکار کرنے والے عقابوں سے یاری لگانا ہمیں کبھی نہ آیا،خیر بد قسمتی کہیے یا پھر دیہاتیوں کی سادگی جنھوں نے علاقے کے اکلوتے دانشور کی تختی پر ہمارا نام لکھ چھوڑا،سو کچھ نہ کچھ تو کرنا اور کہنا پڑتا ،کبھی باچھیں کھلاتے دھرنے کو حکومتی تابوت میں آخری کیل قرار دیا اور کبھی منہ چھپائے ،نظریں جھکائے آہستہ سے غیبی امداد نہ ملنے کا شکوہ کردیااور اب جبکہ سانپ سامنے آگیا ،جانے والے رک گئے اور رکنے والے یار لوگ جا چکے تو میرے سمیت اندر کی خبرلانے والے کئی سیاسی پنڈتوں کی ایک نہ چلی اور آج کل ہم کسی کونے میں پڑے خوشی اور غم کی ملی جلی کیفیت میں آنسو بہا رہے ہیں ،کبھی کبھار ملامت کا احساس طبیعت پر حاوی ہونے لگے توجن پر صحافتی تکیہ تھا انھیں پتوں پر ہوا دینے کا الزام لگاکر من کا بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں۔یار لوگوں کی اذیت اپنی جگہ لیکن ہمیں تو کچھ حوصلہ اس لیے بھی مل جاتا ہے کہ اس حمام میں بڑے بڑے لٹھ باز ننگے تڑنگے ثابت ہوئے جو دن رات چوکڑے مار کر عوام کے سامنے سیاسی دکان سجاتے تھے مگر اب یہ گال سرخ کیے یار لوگوں سے نالاں میڈیا سے چھپتے پھرتے ہیں،ایسا تو ہوگا اس طرح کے یارانوں سے۔خیر ہم نے کونسا باز آنا ہے۔ جملہ معترضہ سے قطع نظر امریکی صدر تھامس جیفر سن نے کہا تھا کہ کاشتکار کسی بھی ریاست کے بہترین شہری ہوتے ہیں کیونکہ یہ خود اور انکا کاروبار وطن کی مٹی سے جڑا ہوتا ہے ۔بد قسمتی یا دوسرے لفظو ں میں منصوبہ بندی کی حد کہیے کہ گزشتہ 5برس کے دوران کاشتکاروں کو دہائیاں پیچھے دھکیل دیا گیا،زراعت سے بلواسطہ اور بلاواسطہ طبقات کا معاشی قتل عام کیا گیا۔کھاد ،تیل اور اسپرے کی قیمتوں میں 200سو فیصد تک اضافہ ہوا مگر زرعی اجناس کی قیمت میں نمایاں کمی کی گئی۔سال2006کے دوران 2ہزار روپے فی من بکنے والی چاول کی فصل آج 2016میں 11سو سے تجاوز نہیں کرسکی۔ظلم و ستم اور کسان دشمنی کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو بھارت کو پاکستان کی زمینوں کو بنجر کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی،ریاست کے کسان خود ہی کھیتی باڑی چھوڑ کر جنگلات اگنے دیں گے،کیونکہ گھنٹوں کے بجائے ایکڑ ز میں کام کرنے والے کاشتکار ریاستی ظلم آخر کب تک برداشت کریں گے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*