ہر ادارہ دوسرے ادارے کے دائرہ اختیار میں گھس رہا ہے:رضا ربانی

ہر ادارہ دوسرے ادارے کے دائرہ اختیار میں گھس رہا ہے:رضا ربانی

سینیٹر رضا ربانی کا کہنا ہےکہ افسوس ہوا جب وزیرخارجہ نے کہا کہ کچھ ایسی باتیں ہیں جو نہیں بتائی جاسکتیں،وہ کون سی چیز ہے جو پارلیمان سے چھپائی جاسکتی ہے؟

سابق چیرمین سینیٹ اور رہنما پیپلز پارٹی میاں رضا ربانی نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر ادارہ دوسرے ادارے کے دائرہ اختیار میں گھس رہا ہے،آئین کے تحت دی جانے والے اختیارات کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، بدقسمتی سے تمام آئینی اداروں میں آپس کی ہم آہنگی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ادارےاورریاست تب مضبوط ہوتے ہیں جب آئین کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں، پارلیمنٹ تمام ریاستی اداروں کی ماں ہے،آئین کے تحت بنا پہلا ادارہ مشترکا مفادات کونسل، دوسرا این ایف سی ہے، بدقسمتی سے تمام آئینی اداروں میں آپس کی ہم آہنگی نہیں، 6 سال ہوگئے، این ایف سی ایوارڈ نہیں آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام ادارے پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں،پارلیمان کو غیر فعال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کو فورا قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہاں موسم کا حال معلوم کرنے موجود نہیں، ہم یہاں پالیسی بنانےکیلئے موجود ہیں،جعلی مفکر آج یہ بات پھیلارہےہیں کہ قائداعظم نے صدارتی نظام کی بات کی، آج ہمیں درس دیا جاتا ہے کہ اٹھاوریں ترمیم نے وفاق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ جب ہم نے احتساب کو ایجنڈا کے طور پر استعمال کیا تو اس کے نتائج اچھے نہیں رہے، کوئی کرپٹ ہے تو اس کو سزا دیں اوریہ سزا اس وقت ممکن ہے جب سب کا بلا تفریق احتساب ہو، سیلیکٹو احتساب نہیں۔

انہوں نے چیئر مین نیب کے اختیارات کو کم کرنے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ عدالتیں ہر ہائیکورٹ میں ایک بینچ بنائیں جو انکوئری کے دوران تشدد کا جائزہ لے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*