اشتعال انگیز تقریر کیس، وسیم اختر کی سہولت کاری کے مقدمے میں ضمانت منظور

اشتعال انگیز تقریر کیس، وسیم اختر کی سہولت کاری کے مقدمے میں ضمانت منظور

انسداد دہشت گردی عدالت نے اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری کیس میں وسیم اختر کی 25 ہزار روپے کی ضمانت منظور کر لی جبکہ روئف صدیقی کی ضمانت میں توسیع کر دی ، دوسری جانب عدالت نے اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری کے دو مقدمات میں بانی ایم کیو ایم، فاروق ستار،حید عباس رضوی سمیت 22 ملزمان کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے ۔انسداد دہشت گردی عدالت کراچی میں اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری کیس کی سماعت ہوئی ۔ عدالت میں مئیر کراچی وسیم اختر کو جیل سے لایا گیا جبکہ رئوف صدیقی اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن بھی عدالت میں موجود تھے ۔ رئوف صدیقی کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ ایک ہی جیسے الزام میں کئی مقدمات بنا دیے گئے ہیں۔ اس مقدمے میں وسیم اختر کو گرفتار نہیں کیا گیا ۔ عدالت نے وسیم اختر کی 25 ہزار روپے کی ضمانت منظور کر لی ۔ عدالت نے روئف صدیقی کی ضمانت میں یکم دسمبر تک توسیع کر دی ۔وسیم اختر کے خلاف تھانہ سپر ہائی وے میں اشتعال انگیز تقریر کا مقدمہ درج ہے۔ وسیم اختر پر ٹوٹل 39 مقدمات درج ہے 37 مقدمات میں ضمانت پر ہیں ۔ وسیم اختر کے خلاف علاج معالجے کیس کا فیصلہ بدھ کے روز سنایا جائیگا ۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں اشتعال انگیز تقریر میں سہولت کاری دو مقدمات کی سماعت بھی ہوئی ۔ مفرور ملزمان کی عدم پیشی پر عدالت نے سماعت 19 نومبر تک ملتوی کر دی ۔ عدالت نے بانی ایم کیو ایم، فاروق ستار،حید عباس رضوی سمیت 22 ملزمان کے ایک بار پھرناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں اشتعال انگیز تقریر کے ایک کیس میں ضمانت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وسیم اختر کا کہنا تھا کہ میرے خلاف 39 مقدمات قائم کئے گئے ۔ مجھے امید ہے کہ 16 نومبر کو رہا ہو جاؤں گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ رہائی کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کروں گا اور ان سے شہری امور پر تبادلہ خیال کروںگا ۔ وزیر اعلیٰ سندھ صوبے کے کسٹوڈین ہیں۔ صوبے میں کوئی بہتری ہوگی تو کریڈٹ مراد علی شاہ کو ہی ملے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی کے اب تک کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار ہیں ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*