ایف بی آئی نے ہیلری کو ای میلز کے معاملے میں کلئیر کردیا

ایف بی آئی نے ہیلری کو ای میلز کے معاملے میں کلئیر کردیا

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے ہیلری کلنٹن کو خفیہ ای میلز کے معاملے میں ایک مرتبہ پھر کلئیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاملے میں کسی مجرمانہ غفلت کا ثبوت نہیں ملا ہے۔ہلیری الیکشن کیمپین کی جانب سے فیصلے کا خیر مقدم جبکہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہلیری کے صدر بننے سے ملک آئینی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ اگر ہم یہ الیکشن نہ جیتے تو ہماری ساری ترقی ضائع ہوجائے گی۔امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے کہا ہے کہ ہلیری کی نئی ای میلز کے معاملے پر مزید کوئی تحقیقات نہیں کی جارہی ہے۔ ادارہ اپنے گزشتہ تحقیقاتی نتائج پر بھی قائم ہے۔ ہلیری کی ای میلز کے معاملے پر کسی مجرمانہ غفلت کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے نے کانگریس کے نام اپنے خط میں لکھا ہے کہ ایف بی آئی نے جولائی میں اپنی تحقیقات کے نتائج سے کانگریس کو آگاہ کردیا تھا اور اب اس سلسلے میں مزید تحقیقات نہیں کی جارہیں ہیں۔اپنی گزشتہ تحقیقات میں ایف بی آئی کا کہنا تھا کہ باوجود اس کے کہ ہلیری اور ان کے معاونین ای میلز کے معاملے میں انتہائی غیر محتاط ثابت ہوئے ہیں، تاہم اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ خفیہ معلومات کے تبادلے میں بھی کوئی بے پروائی برتی گئی ہو۔دوسری جانب ہلیری الیکشن کیمپین کی جانب سے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ہمیں پہلے ہی اعتماد تھا کہ ہلیری کلنٹن نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ہے۔ادھر ریاست آئیووا میں انتخابی ریلی سے خطاب میں ٹرمپ کا کہنا تھا ہلیری خفیہ معلومات کے تبادلے کے لیے اپنے معاونین کے کمپیوٹر استعمال کرتی رہیں۔۔ جس سے انہیں بھی ان معلومات تک مکمل رسائی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں امید ہے ایف بی آئی اتنے شواہد اکٹھے کرلے گا کہ جو ہلیری کو مجرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہوں۔امریکی ریاست فلوریڈا میں ہلیری کی انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر باراک اوباما کا کہنا تھا کہ ہماری تمام ترقی اور پیش رفت ضائع ہوجائے گی۔ اگر ہم یہ الیکشن ہار گئے اور یہ الیکشن جیتنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ریاست فلوریڈا سے بھی کامیاب ہوں۔صدر اوباما نے ووٹرز سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکلیں اور ووٹ ڈالیں۔ انہوں نے ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ جو شخص ایک ٹویٹر اکائونٹ ٹھیک طور پر نہیں چلاسکتا وہ نیوکلیئر کوڈ کس طرح سنبھالے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*