بے موسم کی دھند ”سموگ ” نے ملک کو گھیرے میں لے لیا

بے موسم کی دھند ”سموگ ” نے ملک کو گھیرے میں لے لیا

آج کل پاکستان کے مختلف علاقوں میں سموگ نامی دھند نے اپنے ڈیرے جما رکھے ہیں ۔ مختلف اذہان کے لوگ اس کو مختلف اقسام کے نام دے رہے ہیں ۔ درحقیقت با ت یہ ہے کہ ہم سب اس وقت ایک بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں ۔ دراصل سموگ دو الفاظ کامرکب ہے: دھواں اور دھند ۔ (smoke+ fog) یعنی اس اس دھواں نما چیز کا سموگ ہونے کے لیے دھند کا ہونا لازمی شرط ہے (جو کہ فی الوقت میسر نہیں) ۔ تو پھر یہ کیا ہے؟ دراصل یہ فضائی آلودگی کی ایک شدید قسم ہے جو کہ ہمارے پچھلے چند ماہ کے کرموں کا نتیجہ ہے ۔ بے بہا ٹریفک سے نکلنے والا دھوں آج ہمارے حلق کا کانٹا بن رہا ہے ۔ لاہور کی آبادی سے زیادہ لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک ہے ، جس میں رکشے اور ذاتی استعمال کی گاڑیاں سر فہرست ہیں ۔ مزید برآں (صورتحال کو مزید خراب کرنے کے لیے) جس قدر شدید تعمیراتی سرگرمیاں پچھلے چھ ماہ سے لاہور میں وقوع پذیر ہو رہی ہیں ، ماضی میں نہیں ہوئیں ۔ ایک تعمیراتی ، ترقیاتی پراجیکٹ لگانے سے پہلے ای-پی-ڈی سے ایک این-او-سی ) لینا پڑتا ہے جس کے لیے لازمی شرط ہے کہ آپ اپنے پراجیکٹ کا ای-آئی-اے کروائیں ۔ اپنے پراجیکٹ سے ماحول اور قدرتی وسائل کو جو خطرات یا نقصانات درپیش ہیں انکا تخمینہ لگائیں اور اس کے حل کے لیے متبادل طریقے تجویز کریں ۔ سیاسی مباحثوں اور چپقلشوں سے قطع نظر، میٹرو اورنج لائن ٹرین کے ای آئی اے میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ اس پراجیکٹ کی تعمیراتی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اضافی مٹی کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے گا ۔ لیکن جب آپ سڑکوں پر پڑی اس اضافی مٹی کو بنا صفائی کروائے ، بے ڈھنگے طریقے سے پانی کا چھڑکاؤ کر کے ٹھکانے لگانے کی کوشش کریں گے ، تو اس کا نتیجہ ایسی ہی “بے موسم کی دھند” میں نکلے گا ۔ پرانی عمارتوں کی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مٹی ، پانی کا چھڑکاؤ سوکھنے کے بعد فضا میں چلی جاتی ہے اور فضا میں کثیف شکل اختیار کرنے کے بعد درجہ حرارت میں تبدیلی آتے ہی یہ مٹی اور دوسرے پولیوٹینٹس (ایسے مادے جو ماحول کو آلودہ کرتے ہیں) نچلے فضائی درجے میں آ جاتے ہیں ۔ یہ پولیو ٹینٹس بہت سی بیماریوں جیسے زکام ، گلا خراب ، آنکھوں میں جلن یا آنکھوں کا دکھنا ، سر چکرانا ، اور سانس لینے میں دشواری کا سبب بن رہے ہیں۔ماحول کی حفاظت کو تو ہم کچھ گردانتے نہیں ، معاہدوں پر دستخط کر کے اور وزیر ماحولیات کے عہدے کا خطاب “وزیر ماحولیات” سے تبدیل کر کے “منسٹر آف کلائمیٹ چینج” رکھنے سے ہمارا ماحولیاتی تحفظ کا فرض پورا ہو جاتا ہے ۔ “عوام” کی بے خبری و بے نیازی اور “خواص” کی بے رحمی کا نتیجہ اب ہمارے ہاتھوں میں ہے ۔ “عوام” اور “خواص” اب “محمود و ایاز” کی طرح “ایک ہی صف” میں کھڑے ہیں ۔ اس آفت کے اثرات امیر و غریب سب پر اثر انداز ہوں گے ۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر ماسک کا استعمال کیا جا سکتا ہے (اگرچہ اپنا تمام دن گھر پر گزار دینے والی خواتین بھی ان اثرات سے بچ نہیں سکی) ۔ بلا شبہ اس صورتحال کے دور رس اثرات مرتب ہونے والے ہیں مگر بارش اس مسئلے کو فوری اور وقتی طور پر حل کر سکتی ہے ۔ لاہور میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کے باعث فضاء آلودہ ہوئی ہے ، اس سے لوگوں کو سانس سے متعلق الرجی بڑھنے کی شکایت سامنے ہے ۔ اس الرجی سے چھٹکارا پانے کے لیے ماہرین کے یہ چند مشورے نہایت آزمودہ ثابت ہو سکتے ہیں ۔ جرمن لنگز فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیرالڈ مور کے مطابق سانس یا پھیپھڑوں کے دائمی امراض جیسے کہ دمہ یا پھیپھڑوں کو جانے والی سانس کی مرکزی نالیوں کی سوزش کے دائمی مرض میں مبتلا افراد کو احتیاط برتنی چاہیے ۔ ہیرالڈ مور الرجی کے حوالے سے مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دمہ کے مرض میں پھیپھڑوں یا گلے کو جانے والی سانس کی نالیاں حد سے زیادہ حساس ہو جاتی ہیں ۔ ایسے میں جب دمے میں مبتلا فرد کے قریب ہوں تو اسے چھینکوں اور کھانسی کا دورہ پڑنے کے علاوہ سانس لینے میں دشواری کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ مور کے مطابق جب سانس کی نالیاں حد سے زیادہ حساس ہوں تو صفائی کی تقریباً تمام مصنوعات میں موجود کیمیاوی اجزا ان نالیوں میں سوزش پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں ۔ تکلیف سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ ان مادوں کے گاڑھے پن کو کم رکھا جائے ۔ الرجی بڑھنے کی ایک بڑی وجہ گرد کے باریک ذرات بھی ہیں ۔ جرمنی کی الرجی اور دمہ فیڈریشن سے وابستہ ماہر حیاتیات آنیا شوالفن برگ کہتی ہیں کہ جرمنی کی اندازاً دس فیصد آبادی گرد کے باعث الرجی کا شکار ہے ۔ ڈاکٹر آنیا کے مطابق صفائی کے دوران اٹھنے والی گرد کے ذرات الرجی کو بڑھانے کا سبب بن جاتے ہیں ۔ ایسے میں اگر صفائی کے لیے گیلا کپڑا استعمال کیا جائے تو گرد اٹھنے کا امکان بہت حد تک کم ہو جاتا ہے ۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ گھر میں ڈالے گئے قالین زیادہ تہہ دار نہ ہوں تاکہ ان میں کم سے کم گرد جمع ہو سکے ۔ اس کے علاوہ قالین کو روزانہ کی بنیاد پر ویکیوم کلینر کے ذریعے صاف بھی کرتے رہنا چاہیے ۔ اس کے علاوہ دیکھا یہ گیا ہے کہ ہوا میں زیادہ نمی رکھنے والے علاقوں میں موجود گھروں میں پھپھوندی لگ جانے کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے ۔ یہ بھی الرجی پیدا کرنے کے علاوہ اسے بڑھانے کی ذمہ دار ہے ۔ اس سے بچنے کے لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ آپ کے گھر میں ہوا گزرنے کا مناسب انتظام ہو جبکہ پھپھوندی لگے گھروں میں صفائی کے دوران کھڑکی اور دروازوں کو کھلا چھوڑ دینا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ صفائی کے دوران فارمیسی سے ایک سادہ سا ماسک لے کر اگر ناک پر چڑھا لیا جائے تو یہ نہ صرف پھپھوندی بلکہ گرد سے بھی بچاؤ میں مدد گار ثابت ہو گا ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*