حکومت نےکمپنیز آرڈیننس 2016ء قومی اسمبلی میں پیش کر دیا

حکومت نےکمپنیز آرڈیننس 2016ء قومی اسمبلی میں پیش کر دیا

حکومت نےکمپنیز آرڈیننس 2016ء قومی اسمبلی میں پیش کر دیا، اس حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہنا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی آف شور کمپنیوں کےبارےمیں معلومات حاصل کی جا سکیں گی جبکہ ایس ای سی پی منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی فنانسنگ کے خلاف تحقیقات کر سکے گا۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ دنیا سے بہت پیچھے تھے،ملک میں 1984ء کا قانون چل رہا تھا، نئے قانون کے تحت مشترکہ تحقیقات کا میکانزم تیار کیا جا سکے گا۔انہوں نے بتایا کہ نئے قانون کے تحت ایس ای سی پی کو الیکٹرانک دستاویزات جمع کرائی جا سکیں گی، ای ووٹنگ ممکن ہوگی، ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس منعقد کیے جا سکیں گے، شیئرزکی بک انٹری ہو گی، اسلامک کمپنیز اور رئیل اسٹیٹ کمپنیز کے سرمایہ کاروں کو تحفظ حاصل ہو گا۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ آرڈیننس کے بعد آف شور کمپنیز کو اپنے بینیفیشل آنرز، ڈائریکٹرز سمیت تمام تفصیلات دینا ہوں گی، اگر کوئی درست معلومات نہیں دے گا تو اسے بھاری جرمانے اورسزائیں ہوں گی۔پیپلزپارٹی کے ارکان نفیسہ شاہ اور نواب یوسف تالپور نے کمپنیز آرڈیننس کے خلاف احتجاج کیا اور کہا کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں 1200 صفحات کا آرڈیننس کیوں پیش کیا گیا؟یہ آئین کی خلاف ورزی ہے، ملک میں کیا صدارتی نظام چل رہا ہے؟پارلیمانی سیکریٹری خزانہ رانا افضل نے ایوان کو بتایا کہ آرڈیننس سے پہلے متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیا گیا، چینی کمپنیاں مشترکہ منصوبوں پر کام کرنا چاہتی ہیں،ملک میں مناسب قانون نہیں تھا اس لئے آرڈیننس پیش کیا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*