دین اسلام پر قربان ہونے والوں کی یادتقریباً 1400سال بعد بھی تازہ ہے

دین اسلام پر قربان ہونے والوں کی یادتقریباً 1400سال بعد بھی تازہ ہے

فضہ سعید۔۔۔۔۔حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور کربلا کے 72شہدا کے چہلم پر ملک کے مختلف شہروں میں مجالس و جلوس کا انعقاد کیا گیا، ملک بھر میں عزاداروں کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔۔شھداے کربلا کی یاد میں ہرسال عشورہ کے چالیس روزکےبعد بیس صفر کو مہذ بی عقیدت واحترام کے سا تھ منا یا جاتا ھے۔  چھلم حضرت امام حسین کربلا کی تاریح میں ایک اھم واقعہ کی یاد ھے۔۔جسکی اہمیت عشورہ سے کسی لحاظ سے کم نہیں۔ اس روز اہل بیت کربلا کی سرزمین پر پھنچے۔ آج سے تقریباً 1400سال پہلے خاندان رسولﷺ کی خواتین شام کے زندان سے رہا ہوکر واپس کربلا پہنچیں اور امام حسین سمیت دیگر شہدا کی قبروں پر آکر ان کا چہلم منایا، اسی دن کی یاد میں دنیا بھر کی طرح ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں جلوس برآمد کیے جاتے ہیں۔۔اس دن پانی کی سبیلں لگاکر کربلا کے شہدا کی پیاس کو تازہ کیا جا تا ہےاور ان کی قرنیوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔۔اس نیازکا نزانہ  بھی پیش کیا جاتا ہے۔ عشورہ سےلے کر الأربعين تک‎‎ تک کے چالیس دن بھی شھدا کربلا کی عظیم قربانی کی یادگار کے طور پر مناے جاتے ھیں۔ اسلام میں الأربعين کو حصو صی اھمیت حا صل ھے۔کربلا کے رفقا نے حق وباطل کا فرق واضح کیا اور یزید کے مکروفریب کا پردہ چاک کیا۔۔کربلا میں خاندان رسولﷺ کی قربانیاں رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*