روبوٹس نے دنیا کے لیے خطرےکی گھنٹی بجادی

روبوٹس نے دنیا کے لیے خطرےکی گھنٹی بجادی

فضہ سعید۔۔۔۔۔ روبوٹس نے دنیا کے لیے خطرےکی گھنٹی بجادی۔۔۔مستقبل قریب میں ان روبوٹس کی بدولت  لاکھوں نہیں بلکہ  کروڑوں لوگ بے روزگاری ہوجائیں گے۔۔حال ہی میں روس کے جنگی روبوٹ نے خطرے کی گھنٹی بجائی تھی جبکہ اب اس سے بیروزگا ری کامسلئہ بھی عالمی دنیا کے لیے خطرہ بن سکتاہے۔۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں اس خطرے کی نشان دہی کردی گئی۔ایک عام تأثر یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے سہارے دنیا جیسے جیسے ترقی کررہی ہے، زندگی سہل ہوتی جارہی ہے۔ نت نئی ایجادات کام کو آسان بنا رہی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مشینوں کی بدولت زندگی تیزرفتار اور سہل ہوگئی ہے۔۔ لیکن تصویر کے دو رُخوں کی طرح ٹیکنالوجی بھی مثبت اور منفی رُخ رکھتی ہے۔ فی الوقت دنیا کی نگاہیں اس کے مثبت پہلو پر مرکوز ہیں، مگر مستقبل میں اس کا منفی رُخ ہولناک صورت حال کو جنم دے سکتا ہے جس سے پوری دنیا متأثر ہوگی۔۔ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی ترقی بالخصوص مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر جدید ترین خود کارروبوٹس وجود میں آتے جارہے ہیں جو مختلف کام تیزرفتاری سے انجام دے رہے ہیں۔ صنعتی شعبوں میں ان روبوٹس کا استعمال تیزی سے فروغ پارہا ہے ،  تودوسری طرف اسی تیزی سے روزگار کے مواقع محدود ہوتے جارہے ہیں۔روبوٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے میکسیکو اور ایشیا سمیت تیسری دنیا کے ممالک میں ان صنعتوں سے وابستہ کارکنوں اور ملازمین کے بے روزگار ہوجانے کے خدشات کھڑے کردیے ہیں۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر دنیا میں دو تہائی ملازمتیں ختم ہوسکتی ہیں۔ عالمی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔چناں چہ کم تر لاگت اور تھوڑے وقت میں زیادہ کام انجام دینے کی خوبی کے باعث صنعت کار اور سرمایہ دار عام ملازمین کو روبوٹوں سے بدلتے رہیں گے جس کا انجام بے روزگاری کے بدترین بحران اور اس کے نتیجے میں خانہ جنگی اور پھر حکومتوں کے خاتمے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اس حوالے سے ترقی یافتہ دنیا کو اصول اور قوانین وضع کرنے ہوں گے اور دنیا کو ایک بھیانک خطرے سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*