سرکاری ہسپتالوں میں بارہ ہزار دو سو پچاس اسامیاں خالی، ڈاکٹر بیرون ملک جانے پر مجبور

سرکاری ہسپتالوں میں بارہ ہزار دو سو پچاس اسامیاں خالی، ڈاکٹر بیرون ملک جانے پر مجبور

پاکستان میں ڈاکٹر بننا جان جوکھوں کا کام ہے مگر ڈاکٹر بن کر معاشرے میں بھرم برقرار رکھنا اس سے بھی مشکل کام ہے ۔ عملی میدان میں سہولتوں کا فقدان ذہین ترین دماغ چھیننے لگا۔ ملک میں ہزاروں اسامیاں خالی ہیں لیکن مسائل سے دلبرداشتہ ڈاکٹر ملک چھوڑنے کو ترجیح دینے لگے ۔غریب ہوں یا امیر بچے کو ڈاکٹر بنانا سب ماں باپ کا خواب ہوتا ہے ۔ ادھر بچہ اسکول گیا تو ادھر امیدیں بندھ گئیں، پھر مطلوبہ معیار تک پہنچنے کیلئے سالوں کی انتھک محنت درکار ہوتی ہے ۔کڑی مسافت کے بعد معاشرے کے ذہین ترین دماغ اپنی منزل پاتے ہیں لیکن عملی میدان میں آتے ہی ہوش اڑ جاتے ہیں ۔ اپنے برعکس جب ڈاکٹر بننے والے نمبروں کی دوڑ میں پیچھے چھوڑے اپنے ہی بیج فیلوز کو سول اور پولیس سروس میں شان سے اختیارات دکھاتے مراعات کے مزے اڑاتے دیکھتے ہیں تو بالکل ہی دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں ۔ڈاکٹر کی بنیادی تنخواہ اڑتیس ہزار سے شروع ہوتی ہے جبکہ دس سال بعد 80ہزار تک پہنچتی ہے ، اس کے برعکس سول افسران 45 ہزار سے شروع ہوتے ہیں اور دس سال بعد ان کا مجموعی پیکج ڈھائی سے تین لاکھ تک پہنچ جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر مطالبات لیکر سڑکوں پر آجاتے ہیں ۔حالات سے دلبرداشتہ ہو کر کئی ڈاکٹر ملک ہی چھوڑ جاتے ہیں جبکہ حکومت ہے کہ طفل تسلیوں سے ہی آگے نہیں بڑھتی ۔اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں ہر سال چھ ہزار ڈاکٹر بنتے ہیں ، سترہ سو فیلڈ میں رہتے ہیں باقی ملک سے باہر یا دوسرے شعبوں کا رخ کر لیتے ہیں ۔ اتنی بڑی تعداد میں ڈاکٹر پیدا کرنے والے صوبے کا اپنا حال یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں پروفیسرز سے لیکر ہاؤس فزیشنز اور سرجنز سمیت ڈاکٹروں کی بارہ ہزار دو سو پچاس اسامیاں خالی ہیں ۔دعوؤں، وعدوں اور نعروں کے باوجود شعبہ صحت کی حالت زار ڈھکی چھپی نہیں ۔ اگر صورتحال یہی رہی تو مزید ابتری اور تنزلی ہی مقدر بنتی جائے گی ، ذہین ترین دماغ باہر جاتے رہیں گے اور علاج کو ترستے بے چارے عوام بلبلاتے رہیں گے ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*