مریم ، حسن اور حسین والد کے زیرکفالت نہیں: حکومتی وکیل

مریم ، حسن اور حسین والد کے زیرکفالت نہیں: حکومتی وکیل

وزیراعظم نواز شریف کے بچوں مریم ، حسن اور حسین نواز نے پاناما لیکس کیس میں جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا ۔وزیراعظم کے بچوں کا مشترکہ جواب ان کے وکیل سلمان بٹ نے جمع کرایا ہے ۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ مریم، حسن اور حسین نواز کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھتے ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کے بچے آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں اور کیا مریم نواز پہلے کبھی کفالت میں رہی ہیں ، جس پر سلمان بٹ نے کہا کہ مریم نواز اپنے والد کی کفالت میں نہیں ہیں ، مریم نواز 2011 میں اپنے والد کے زیر کفالت نہیں تھیں ، مریم نواز 2009 سے باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتی ہیں ، انہوں نے اپنے تمام اثاثے ظاہر کیے ہیں، مریم نواز کسی پراپرٹی کی مالک نہیں ہیں، 2009 سے پہلے مریم نواز بیرون ملک تھیں ، وہ نیسکول اور نیلسن کی ٹرسٹی ہیں، تاہم مریم نواز آف شور کمپنیوں سے کوئی فائدہ نہیں لیتیں، اس حوالے سے تمام الزامات بے بنیاد اور غلط ہیں ۔حکومتی وکیل کا مزید کہنا تھا کہ حسین نواز اپنے والد کی زیر کفالت نہیں، ان کا سولہ سال سے ملک سے باہر کاروبار ہے، لندن کی جائیدادیں دو ہزار چھ سے پہلے حسین نواز کے نام نہیں تھیں ، لندن جائیدادوں کے لیے کوئی رقم پاکستان سے نہیں بھجوائی گئی، عدالتی استفسار پر سلمان بٹ نے بتایا کہ جائیدادوں کی خریداری سے متعلق قانون کے مطابق ہر چیز عدالت میں پیش کی جائے گی ، باہر کے ممالک کے دفاتر سے دستاویزات حاصل کرنا ہیں، حسین نواز کے جواب میں کہا گیا ہے کہ جائیدادوں سے مریم نواز کا کوئی تعلق نہیں ہے ، حسن نواز بھی اپنے والد کی زیرکفالت نہیں ہیں ، حسن نواز بائیس سال سے باہر کاروبار کر رہے ہیں، حسن نواز کی بیرون ملک کوئی جائید اد نہیں ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ٹرسٹی کا آف شور کمپنیوں سے کیا تعلق ہے ۔ سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ کمپنی کے مالک کی وفات کے بعد ٹرسٹی کا کردار آتا ہے، عدالت کو ٹرسٹ ڈیڈ بھی فراہم کی جائے گی ، مریم، حسن اور حسین نواز پر لگنے والے تمام الزامات بے بنیاد ہیں ، حسن نواز کا کاروبار ملک سے باہر ہے، کیپٹن صفدر کا جواب بھی دے رہے ہیں ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ حسین نواز نے ملکیت سے انکار نہیں کیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا جائیداد کی خریداری قانونی ہے ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*