وزیراعظم کے اسمبلی فلور اور عدالتی بیان میں تضاد ہے، سپریم کورٹ

وزیراعظم کے اسمبلی فلور اور عدالتی بیان میں تضاد ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے اسمبلی فلور اور عدالت سے جھوٹ بولا وہ صادق اور امین نہیں رہے نااہل ہو گئے ہیں جبکہ جسٹس اعجاز ال احسن نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اعظم کے اسمبلی کے فلور کے اور عدالتی بیان میں تضادہے،جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے جدہ اسٹیل ملز کا سرمایہ لندن فلیٹس کی خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا ،جدہ اسٹیل ملز لگانے کے لیے پیسہ کہاں سے آیا ،جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ جدہ اسٹیل ملزکے فنڈز کی وضاخت نہیں ہے ، جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے پانامالیکس کے حوالے سے پانچ درخواستوں پر سماعت شروع کی تو پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہاکہ تین اپریل کو قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے سچ نہیں بولا ،سولہ مئی کو وزیر اعظم نے قومی اسمبلی فلور پر بھی سچ نہیں بولا ،وزیر اعظم نے لندن فلیٹس کی خریداری کے ذرائع غلط بتائے ،وزیر اعظم نے ٹیکس چوری کی ،وزیر اعظم کے بیٹے نے تحفہ میں پیسے دیئے ،مریم نواز وزیر اعظم کی کفالت میں رہی ہیں ،لندن فلیٹس کی بھی مریم نواز بینی فشل مالک ہیں ،وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ قطری شہزادے کےخط نے وزیر اعظم کے پہلے تمام بیانات کی تردید کردی ،قطری شہزادے کے خط میں وزیر اعظم کے خطابات سے مختلف موقف اختیار کیا گیا ،ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب بھی اپنا کام کرنے میں ناکام رہے ،چیئرمین نیب نے وزیر اعظم کو تحفظ فراہم کیا ،ذمہ داری انجام نہ دینے پر چیئرمین نیب کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی جائے،نعیم بخاری نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کا اعترافی بیان دیااور اسحاق ڈار کے اعترافی بیان پر عدالتی فیصلہ ہو چکا ہے ،مریم نواز اور حسین نواز کے درمیان ٹرسٹ ڈیڈ سے بھی کچھ ثابت نہیں ہوتا ،وزیر اعظم نے تقریر میں کہا کہ دبئی کی مل 9ملین ڈالرز میں فروخت ہوئی ،وزیر اعظم کا یہ بیان بالکل غلط ہے ،قطری شہزادے کے خط میں ملز کی قیمت فروخت 33ملین درہم بتائی گئی ،دبئی حکومت نے زمین لیز پر دی ،یہ سٹیل ملزکب قائم ہوئی ہمیں کچھ پتہ نہیں جسٹس اعجاز ال احسن کا کہناتھا کہ دستاویز کے مطابق ملز کے لیے مشینری کو ٹیکس استثنی بھی دیا گیا ،نعیم بخاری نے دلیل دی کہ دبئی کی ملز بے نامی تھی ،دبئی ملز کی فروخت کا معاملہ طارق شفیع اور ارب کمپنی کے درمیان ہوا،شریف خاندای کی دستاویزات کے مطابق ملز کے لیے بی سی سی آئی بینک سے قرضہ لیا گیا ،کہتے ہیں 1978میں 75فیصد شیئرز فروخت کرکے قرض اتارا گیا ،مل فروخت کرکے 21ملین درہم قرض ادا کیا گیا ،بی سی سی آئی بینک کے قرضے کی رقم 27.5ملین درہم تھی ،مل کی فروخت کے بعد بینک کے چھ ملین درہم کا قرض واجب الادا تھا ،1978میں مل فروخت کے وقت اس کی قیمت 36ملین درہم لگائی گئی ،980میں دبئی مل کے باقی 25 فیصد شیئرز بھی فروخت کردیئے گئے ،فیکٹری کب تعمیر ہوئی کب مکمل ہوئی نہیں جانتے ،انیس سو اسی میں فیکرٹری کے شیئرز کی فروخت کے وقت طارق شفیع کی نمائندگی شہباز شریف نے کی ،طارق شفیع شہبازشریف کے فرسٹ کزن ہیں ،دبئی فیکٹری کے 25 فیصد شیئر12 ملین درہم میں فروخت ہوئے ،وزیر اعظم نے کس طرح یہ کہا کہ فیکٹری 33ملین درہم میں فروخت ہوئی ،جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ فیکٹری کے 75 فیصد فروخت کرکے 21 ملین جبکہ 25 فیصد شیئرز فروخت کرکے بارہ ملین جمع کریں تو کل 33ملین درہم بنتے ہیں ،وکیل نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ 21ملین درہم کی رقم تو بینک کو ادا کردی تھی ،شریف خاندان کو تو صرف 12 ملین درہم ملے تھے ،جسٹس اعجاز نے ریمارکس دیئے کہ شریف خاندان کا موقف ہے بارہ ملین درہم کی رقم قطر میں انویسٹ کی ،شریف خاندا ن کے بیانات میں تضاد ہے ،وزیر اعظم کے اسمبلی کے فلور کے اور عدالتی بیان میں تضادہے،جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ تقریر میں کہا گیا کہ سرمایہ بچوں نے کاروبار کے لیے استعمال کیا ،وزیر اعظم نے جدہ سٹیل ملز کا سرمایہ لندن فلیٹس کی خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا ،جدہ سٹیل ملز لگانے کے لیے پیسہ کہاں سے آیا ،جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ قطر کی سرمایہ کاری سے لندن فلیٹس خریدے،جدہ سٹیل ملزکے فنڈز کی وضاخت نہیں ہے ،وزیر اعظم نے بیان میں کہا کہ جدہ سٹیل ملز کے لیے سرمایہ دبئی مل سے لیا گیا ،وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ وزیر اعظم نے جدہ کی فیکٹری کے لیے سعودی عرب کے بینک سے بھی قرضہ لینے کا زکر کیا ،سعودی اسٹیل ملز کے متعلق ایک دستاویز بھی پیش نہیں کی گئی ،دستاویز میں دبئی سٹیل ملز کا نام گلف سٹیل ملز ظاہر کیا گیا ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*