وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت ہوا

وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت ہوا

وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت ہوا جس میں مختلف ممالک کے ساتھ دفاع، صحت، توانائی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور یادداشتوں کی منظوری دی۔اجلاس میں ای سی سی کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے بعد وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کابینہ نے اسپیکر، چیئرمین سینیٹ، وفاقی وزراء اور وزارئے مملکت کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ چودہ سال کے بعد ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ کابینہ کے فیصلے کے مطابق چیئرمین سینٹ اور سپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ انیس ہزار آٹھ روپے سے بڑھاکر دو لاکھ پانچ ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ڈپٹی چیرمین سینٹ اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہ ایک لاکھ دس ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ 85ہزار روپے، وفاقی وزارء کی ایک لاکھ چودہ ہزار سے بڑھا کر دو لاکھ روپے جبکہ وزیر مملکت کی تنخواہ ایک لاکھ چھے ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ اسی ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ 44ہزار630روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کی گئی ہے۔مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نئی تنخواہوں کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہو گا جبکہ اس اضافے سے قومی خزانے پر سالانہ چالیس کروڑ روپے اضافی بوجھ پڑے گا۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے گلوبل فنڈ سہولت کے تحت بھارت سے بعض ادویات منگانے کی اجازت دے دی ہے جبکہ وزارت صحت کو ای پی آئی پروگرام کے تحت ویکسین درآمد کرنے کے اختیارات بھی دے دیئے گئے ہیں۔ کابینہ نے پیپرا رولز 2004ء میں ترامیم کا بھی جائزہ لیا اور وزیراعظم نے ترامیم پر مزید غور کیلئے خواجہ سعد رفیق کی سربراہی میں کیمٹی تشکیل دے دی جو کہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔مریم اورنگزیب نے بتایا کہ کابینہ نے افغان مہاجرین کو دسمبر 2017ء تک پاکستان میں رہنے کی اجازت دے دی ہے تاہم اس مدت کے بعد افغان مہاجرین کو وطن واپس جانا ہو گا۔ ایک سوال پر مریم اورنگزیب نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں فوج میں تبدیلیوں کے معاملے پر کوئی بات نہیں کی گئی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*