ٹرمپ کی انتخابات میں ایسی حکمت عملی سارے تجزیئے ، سروے غلط ثابت کر دیئے

ٹرمپ کی انتخابات میں ایسی حکمت عملی سارے تجزیئے ، سروے غلط ثابت کر دیئے

ساری امیدیں ، تجزیئے اور سروے ہیلری کے حق میں ہونے کے باوجود ٹرمپ نے ایسی حکمت عملی اختیار کی کہ میدان مار لیا اور بڑے بڑے تجزیہ کاروں کو حیران کر دیا۔ٹرمپ برا ہے ، اقتدار میں آئے تو جانے کیا کر دے ، مُسلمانوں کے بھی خلاف ہے اور تارکین وطن کے بھی اور تو اور اس کا تو کردار بھی ٹھیک نہیں، ہیلری کی فتح اور ٹرمپ کی ناکامی کے حوالے سے کیے جانے والے تمام تجزیئے اسی بیانئے کے گرد گھوم رہے تھے۔امریکی میڈیا کی اکثریت بھی یہی کہہ رہی تھی مگر سب کُچھ اُلٹ گیا ، ٹرمپ جیت گیا ، ہیلری ہار گئی ۔ کیا اس ہار کو امریکی اسٹیبلشمٹ کی ہار کہا جائے یا امریکی عوام کی فتح ، دونوں ہی باتیں ٹھیک ہیں ٹرمپ بے وقوف نظر آ رہا تھا مگر تھا نہیں۔ٹرمپ نے اپنی انتخابی مُہم کے ابتدائی مرحلوں میں سفید فام اکژیت کے جذبات کو زُبان دی ، سب کے خلاف بات کی ۔ سفید فاموں کی واضع حمایت ملنے کے بعد ٹرمپ نے مُسلمانوں ، تارکین وطن اور خواتین کے بارے میں معذرت خواہانہ رویہ اپنا لیا۔ہیلری نے اپنی مُہم کے دوران ٹرمپ کی پالیسوں سے زیادہ اُن کی شخصی خامیوں پر توجہ مرکوز رکھی ۔ دونوں کو ملنے والے ووٹوں کا تجزیہ کیا جائے تو ٹرمپ کے ووٹروں میں زیادہ تر کم پڑھے لکھے اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے مسائل کو ڈیموکریٹ کے آٹھ سالہ دور حکومت میں ایڈریس نہیں کیا گیا تھا اور یہی بات ٹرمپ کی فتح اور ہیلری کی شکست کا سبب بنی ہے ۔ اسی لیے تو کہتے ہیں زبان خلق کو نقارہ خُدا سمجو۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*