پاناما لیکس، وزیراعظم اور ان کے بچوں نے سپریم کورٹ میں دستاویزات جمع کرا دیں

پاناما لیکس، وزیراعظم اور ان کے بچوں نے سپریم کورٹ میں دستاویزات جمع کرا دیں

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت کے حوالے سے وزیر اعظم کے بچوں مریم ،حسن اور حسین نواز نے دستاویزات جمع کرا دیں ۔سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بنچ نے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پاناما پیپرز کے معاملے پر سماعت کی ۔ اس موقع پر وکیل اکرم شیخ نے وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم ،حسن اور حسین نواز کی طرف سے دستاویزات جمع کرائیں ،397 صفحات پر مشتمل ان دستاویزات میں میاں نواز شریف کے ٹیکس ادائیگی سمیت زمین اور فیکٹریوں سے متعلق تفصیلات، زمینوں کے انتقال نامے اور سال 2011 سے آج تک ٹیکس ادائیگی سے متعلق تفصیلات شامل ہیں ۔عدالت میں دلائل دیتے ہوئے درخواست گزار طارق اسد نے کہا کہ یہ بڑا مقدمہ ہے ،دبائو کے تحت جلد نہیں نمٹانا چاہیے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ یہ چاہتے ہیں عدالت جلد فیصلہ نہ کرے ، اتنی جلد بازی نہیں ہو گی کہ کسی کے ساتھ ناانصافی ہو ۔ یہ درخواست بھی ہے کہ 1948 سے بدعنوانی کے معاملے کی سماعت کی جائے ،اس طرح تو یہ معاملہ کبھی ختم نہیں ہو گا، ہمارے سامنے جو کیس لایا گیا وہ بہت محدود تھا ، کرپشن کے معاملات کی تحقیقات کرنا سپریم کورٹ کا کام نہیں ،اگر 800 افراد کی تحقیقات کرنے لگے تو 20سال تک یہ کام ختم نہیں ہو گا ۔طارق اسد کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کی بھی تحقیقات کی جائیں ،کم ازکم جن ارکان پارلیمنٹ کی آف شور کمپنیاں ہیں ان کی تحقیقات تو ہونی چاہیے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پرویز مشرف یا کسی اے بی سی نے کرپشن کی ہے تو متعلقہ عدالتیں کھلی ہیں ، آرٹیکل 184 کی شق تین کا استعمال بڑا خطرناک ہوتا ہے ، یہ آرٹیکل ہر جگہ استعمال نہیں ہو سکتا ۔ کیا آپ اس مقدمہ کو ڈی ٹریک کرنا چاہتے ہیں ، دستاویزات کے بعد اب کمیشن کے قیام کا معاملہ ہے ۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ فریقین نے 6636 دستاویزات جمع کرائی ہیں،اخباری تراشے شواہد نہیں ہوتے ،اخبار پرانا ہو جائے تو اس پر پکوڑے بکتے ہیں ، اٹھارہ سو بیاسی کے کاغذات لگا دیئے گئے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا بطور انسان ملک کی کرپشن کی تحقیقات ہمارے لیے ممکن ہے ، ہم انسان ہیں کمپیوٹر تو نہیں ،ایسا تو نہیں ہو گا کہ ہمارے اندر کاغذ ڈالا جائے اور تصدیق ہو کر باہر آجائے ۔ جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ہمیں تو پتہ نہیں چل رہا کہ کون کس کا وکیل ہے ، وکیل طارق اسد نے کہا کہ وہ تو عوام کے وکیل ہیں ،باقی آف شور کمپنیوں کی تحقیق نیب کو دے دی جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اداروں کی ناکامی کا ملبہ ہم پر نہ ڈالیں ،صورتحال یہ ہے کہ پاناما لیکس کے لیے سپریم کورٹ میں سیل کھولنا پڑے گا ،روزانہ کی بنیاد پر پاناما کے معالے پر درخواستیں آرہی ہیں ۔جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب خود ساختہ جلاوطنی پر چین چلے گئے تو ہم کیا کریں ، پہلے لندن فلیٹس کی تحقیقات کا کہا گیا مگر کاغذات 1982 کے جمع کرادیئے گئے ،600 کاغذوں میں سے ایک صفحہ ڈھونڈنے میں ایک گھنٹہ لگا ، اتنے صفحات کیوں جمع کرائے گئے ، ان کا سر ہے نہ پیر ، اخبار میں آرٹیکل آجانے سے کسی کو پھانسی نہیں لگ جاتی ،کمیشن اتنے صفحات کا جائزہ لینے میں پڑ گیا تو چھ ماہ میں رپورٹ نہیں آئے گی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ دستاویزات کے بعد کیس لمبا ہو جائے گا ،پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت کی دستاویزات کا جائزہ لینا چاہتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس معاملے کو جلد از جلد نمٹانا چاہتے ہیں ۔اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ مریم نواز ،حسن اور حسین کی جانب سے صرف ایک دستاویز جمع نہیں کرائی ،وہ ایک دستاویز صرف عدالت کے سامنے ہی پیش کروں گا ،اس دستاویز پر قطر کے سابق وزیر اعظم کے دستخط ہیں ، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیا عدالت کے بلانے پر قطر کے سابق وزیر اعظم پیش ہوں گے ، کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ قطر کے وزیر اعظم نے کوئی تحفہ دیا ہے ،اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ قطر کے وزیر اعظم نے کوئی تحفہ نہیں دیا ،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ کاغذات آج ہی عدالت میں جمع کرا دیں اور دوسرے فریق کو بھی دیں ،اکرم شیخ نے سابق وزیر اعظم قطر کے دستخط شدہ دستاویزات عدالت میں پیش کردیں ۔اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ میاں محمد شریف نے راشد المکتوم کی مدد سے دبئی میں بزنس شروع کیا ،راشد المکتوم وہاں کے حکمران تھے ،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ایک موقف یہ تھا کہ جدہ کی اسٹیل مل فروخت کر کے لندن کی جائیدادیں خریدیں ۔درخواست گزار شیخ رشید نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وقت بڑا اہم ہے ، پورا ملک عدالت کی جانب دیکھ رہا ہے ،ہو سکتا ہے کہ کل تک گاندھی کی دستاویزات بھی پیش کردی جائیں ،ہو سکتا ہے وہ دستاویزا ت بھارتی وزیر اعظم مودی نوٹی فائی کررہا ہو ۔جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام سچ جاننا چاہتے ہیں ،سچ کو دستاویزات کے ذریعہ دفن نہ کریں ، عدالت میں الیکشن کمیشن کا جواب بھی جمع جبکہ کمیشن کی تشکیل کے خلاف وطن پارٹی کے بیرسٹر ظفر اللہ کی درخواست خارج کر دی گئی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فریقین دستاویزات پر اعتراض دائر کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں ،عدالت نے سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*