پاکستان میں سائیکل پر سواری کرنے کا رجحان بہت کم ہوگیا

A man rides a bicycle as children push wheelbarrows along a road on the outskirts of Abbottabad April 22, 2012. Osama bin Laden was killed almost a year ago, on May 2, 2011, by a United States special operations military unit in a raid on his compound in Abbottabad.   REUTERS/Akhtar Soomro       (PAKISTAN - Tags: SOCIETY) ATTENTION EDITORS PICTURE 07 OF 25 FOR PACKAGE 'ABBOTTABAD - A YEAR AFTER BIN LADEN' ORG XMIT: PXP26

فضہ سعید۔۔۔۔۔ پاکستان میں سائیکل پر سواری کرنے کا رجحان بہت کم ہوگیا ہے۔۔لیکن ایک امریکی کمپنی نے ایسا ٹائر بنالیا ہے جو پنکچر نہیں ہوگا۔۔ ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کی بڑی تعداد اب بھی روز مرّہ امور نمٹانے کے لیے سائیکل کا استعمال کرتی ہے۔ ان گنت افراد دفتر آنے جانے کے لیے اسی سواری کا سہارا لیتے ہیں۔سائیکل بلاشبہ ایک مفید اور صحت بخش سواری ہے مگر اس وقت بڑی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب چلتے چلتے ٹائر پنکچر ہوجائے اور نہ تو پاس پنکچر لگانے کا سامان ہو اور نہ ہی قریب میں کوئی پنکچر شاپ۔ مگر اب سائیکل سواروں کو ٹائر کے پنکچر ہوجانے کے مسئلے سے نجات مل جائے گی۔ایک امریکی کمپنی نے ایسا ٹائر بنا لیا ہے جس میں نہ تو کوئی کیل گُھس سکے گی اور نہ ہی اس میں کوئی کٹ لگے گا۔ یوٹا میں واقع نیکسو نامی کمپنی کا تیارکردہ ٹائر دو قسم کا ہے۔ ان اقسام کو نیکسو اور ایور ٹائرز کا نام دیا گیا ہے۔ ٹائر کی قیمت سائز کے حساب سے چھہتر ڈالر سے لے کر تین سو ساٹھ ڈالر تک رکھی گئی ہے۔ فی الوقت یہ ٹائر صرف امریکا میں دست یاب ہے تاہم کمپنی 2017سے اس کی برآمد کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ٹائر کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ جھٹکے کی شدت کو کم کردیتا ہےاورسائیکل سوارکوگرنے سے بھی محفوظ رکھ سکتاہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*