فاتح خیبر حضرت علی رضی اللہ عنہ

فاتح خیبر حضرت علی رضی اللہ عنہ

سیدہ عمارہ راشدصدیقی ۔۔۔۔۔۔۔
دنیا میں بے شمار انسان پیدا ہوئے جن میں سے اکثر ایسے ہوئے کہ ان میں کوئی کمال وخوبی نہیں اور بعض لوگ ایسے ہوئے جو صرف چند خوبیاں رکھتے تھے مگر حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی وہ ذات گرامی ہے جو بہت سے کمال و خوبیوںکی جامع ہے کہ آپ شیر خدا بھی ہیں اور داماد مصطفےٰ بھی ،حیدر کرار بھی ہیں اور صاحب ذوالفقار بھی ،حضرت فاطمہ زاہرہ کے شوہر نامدار بھی اور حسنین کریمین کے والد بزرگو ار بھی ،صاحب سخاوت بھی اور صاحب شجاعت بھی ،عبادت و ریاضت والے بھی اور فصاحت و بلاغت والے بھی ،علم والے بھی اور حلم والے بھی ،فاتح خیبر بھی اور میدان خطابت کے شہسوار بھی ،غرضیکہ آپ بہت سے کمال و خوبیوں کے جامع ہیں اور ہر ایک میں ممتاز ویگانہ¿ روزگار ہیں اسی لئے دنیا آپ کو مظہر العجائب والغرائب سے یاد کرتی ہے اور قیامت تک اسطرح یاد کرتی رہے گی۔
مرتضیٰ شیر حق اشجع الاشجعین    باب فضل ولایت پہ لاکھوں سلام
شیر شمشیر زن شاہِ خیبر شکن    پر تو دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام
نام و نسب:آپ کا نام نامی ”علی بن ابی طالب“ اور کنیت ”ابوالحسنین و ابو تراب ہے :طالب کے صاحبزادے ہیں یعنی حضورﷺ کے چچازاد بھائی ہیں ۔آپ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی فاطمہ بنت اسد ہاشمی ہے اور یہ پہلی ہاشمی خاتون ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت فرمائی۔(تاریخ الخلفاءص113)
آپ کا سلسلہ¿ نسب اس طرح ہے ۔علی بن ابو طالب، بن عبد المطلب، بن ہاشم بن عبد مناف۔ آپ 30 عام الفیل میں پیدا ہوئے اور اعلان نبوت سے پہلے ہی مولائے کل سید الرسل جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ کی پرورش میں آئے کہ جب قریش قحط میں مبتلا ہوئے تھے تو حضورﷺ نے ابو طالب پر عیال کا بوجھ ہلکا کرنے کےلئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو لے لیا تھا ۔اس طرح حضور ﷺ کے سائے میں آپ نے پرورش پائی اور انہی کی گود میں ہوش سنبھالا،آنکھ کھو لتے ہی حضورﷺ کا جمال جہاں آرا دیکھا ،انہی کی باتیں سنیں اور انہی کی عادتیں سیکھیں ۔اس لئے بتوں کی نجاست سے آپکا دامن کبھی آلو دہ نہ ہوا ۔یعنی آپ نے کبھی بت پرستی نہ کی اور اسی لئے کرم اللہ وجہہ الکریم آپ کا لقب ہوا۔(تنزیہ المکانة الحیدریہ وغیرہ)
آپ کا حلیہ:حضرت علی رضی اللہ عنہ جسم کے فربہ تھے ۔اکثر خود استعمال کرنے کی وجہ سے سر کے بال اڑے ہوئے تھے ۔آپ نہایت قوی اور میانہ قد مائل بہ پستی تھے ۔آپ کا پیٹ دیگر اعضا کے اعتبار سے کسی قدر بھاری تھا ۔مونڈھوں کے درمیان کا گوشت بھرا ہوا تھا۔پیٹ سے نیچے کا جسم بھاری تھا ۔رنگ گندمی تھا ۔تمام جسم پر لمبے لمبے بال، آپ کی ریش مبارک گھنی اور دراز تھی۔مشہور ہے کہ ایک یہودی کی داڑھی بہت مختصر تھی ٹھوڑی پر صرف چند گنتی کے بال تھے اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا اے علی! تمہارا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن میں سارے علوم ہیں اور تم باب مدینة العلم ہو تو بتاﺅ قرآن میں تمہاری گھنی داڑھی اور میری مختصر داڑھی کا بھی ذکر ہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا سورہ¿ اعراف میں ہے۔وَال±بَلَدُ ال±طَّیِّب± یَخ±رُجُ نَبِاتُہ¾ بِاِذ±نِ رَبَّہ وَالَّذِی± خَبُثَ لَا یَخ±رُجُ اِلَّا نَکِدًا۔یعنی جو اچھی زمین ہے اس کی ہر یالی اللہ کے حکم سے خوب نکلتی ہے اور جو خراب ہے اس میں سے نہیں نکلتی مگر تھوڑی بمشکل۔(پارہ 8ع14)تو اے یہودی وہ اچھی زمین ہماری ٹھوڑی ہے اور خراب زمین تیری ٹھوڑی ۔
معلوم ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا علم بہت وسیع تھا کہ اپنی گھنی داڑھی اور یہودی کی مختصر داڑھی کا ذکر آپ نے قرآن مجید میںسے ثابت کر دکھایا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ قرآن سارے علوم کا خزانہ ہے مگر لوگوں کی عقلیں اس کے سمجھنے سے قاصر ہیں ۔
ابو تراب:حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ایک کنیت ابو تراب بھی ہے جب کوئی شخص آپ کو ابو تراب کہہ کر پکارتاتھا تو آپ بہت خوش ہوتے تھے اور رحمت عالم ﷺ کے لطف و کرم کے مزے لیتے تھے اس لئے کہ یہ کنیت آپ کو حضور ہی سے عنایت ہوئی تھی ۔اس کا واقعہ یہ ہے کہ ایک روز آپ مسجد میں آکر لیٹے ہوئے تھے اور آپ کے جسم پر کچھ مٹی لگ گئی تھی کہ اتنے میں رسول اکرم ﷺ مسجد میں تشریف لائے اور اپنے مبارک ہاتھوں سے آپ کے بدن کی مٹی جھاڑتے ہوئے فرمایا قم یا ابا تراب ۔یعنی اے مٹی والے ! اٹھو اس روزسے آپ کی کنیت ابو تراب ہو گئی ۔(رضی اللہ عنہ )
آپ کا قبول اسلام:حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نو عمر لوگوں میں سب سے پہلے اسلام سے مشرف ہوئے ۔تاریخ الخلفاءمیں ہے کہ جب آپ ایمان لائے اس وقت آپ کی عمر مبارک دس سال تھی بلکہ بعض لوگوں کے قول کے مطابق نو سال اور بعض کہتے ہیں کہ آٹھ سال اور کچھ لوگ اس سے بھی کم بتاتے ہیں اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمة اللہ علیہ تنزیہ المکانتہ الحیدریہ میں تحریرفرماتے ہیں کہ بوقت اسلام آپ کی عمر آٹھ دس سال تھی۔
آپ کے اسلام قبول کرنے کی تفصیل محمد بن اسحاق نے اس طرح بیان کی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کو اور حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ جب لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ آپ لوگ یہ کیا کر رہے تھے ۔حضور ﷺنے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایسا دین ہے جس کو اس نے اپنے لئے منتخب کیا ہے اور اسی کی تبلیغ و اشاعت کےلئے اپنے رسول کو بھیجا ہے ۔لہٰذا میں تم کو بھی ایسے معبود کی طرف بلاتا ہوں جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں تم کو اسی کی عبادت کا حکم دیتا ہوں ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے کہا کہ جب تک میں اپنے باپ ابو طالب سے دریافت نہ کر لوں اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا ۔چونکہ اس وقت حضور ﷺ کو راز کا فاش ہونا منظور نہ تھا اس لئے آپ نے فرمایا اے علی! اگر تم اسلام نہیں لاتے ہوتو ابھی اس معاملہ کو پوشیدہ رکھو کسی پر ظاہر نہ کرو۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اگر چہ اس وقت رات میں ایمان نہیں لائے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں ایمان کو راسخ کر دیا تھا دوسرے روز صبح ہوتے ہی۔ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کی پیش کی ہوئی ساری باتوں کو قبول کر لیا اسلام لے آئے۔
آپ کی ہجرت:سرکار مدینہ ﷺ نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مکہ معظمہ سے ہجرت کا ارادہ فرمایا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو بلا کر فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا حکم ہو چکا ہے لہٰذا میں آج مدینہ روانہ ہو جاﺅں گا تم میرے بستر پر میری سبز رنگ کی چادر اوڑھ کر سو رہو تمہیں کوئی تکلیف نہ ہوگی قریش کی ساری امانتیں جو میرے پاس رکھی ہوئی ہیں انکے مالکوں کو دے کر تم بھی مدینہ چلے آنا۔یہ موقع بڑا ہی خوفناک اور نہایت خطرہ کا تھا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کو معلوم تھا کہ کفار قریش سونے کی حالت میں حضور ﷺ کے قتل کا ارادہ کر چکے ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضورﷺ کو اپنے بستر پر سونے سے منع فرمادیا ہے ۔آج حضور ﷺ کا بستر قتل گاہ ہے ۔لیکن اللہ کے محبوب دانائے خفایا وغیوب جناب احمد مجتبےٰ محمد مصطفےٰ ﷺ کے اس فرمان سے کہ ”تمہیں کوئی تکلیف نہ ہوگی قریش کی امانتیں دے کر تم بھی مدینہ چلے آنا۔“ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو پورا یقین تھا کہ دشمن مجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچاسکیں گے میں زندہ رہوں گا اور مدینہ ضرور پہنچوں گا۔لہٰذا سرکار مدینہ ﷺ کا بستر جو آج بظاہر کانٹوں کا بچھونا تھا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے پھولوں کی سیج بن گیا ۔ اس لئے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے نکل سکتا ہے مگر حضور ﷺ کے فرمان کے خلاف نہیں ہو سکتا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رات بھر آرام سے سویا صبح اٹھکر لوگوں کی امانتیں ان کے مالکوں کو سونپنا شروع کیں اور کسی سے نہیں چھپا اسی طرح مکہ میں تین دن رہا پھر امانتوں کے ادا کرنے کے بعد میں بھی مدینہ کی طرف چل پڑا ۔راستہ میں بھی کسی نے مجھ سے کوئی تعارض نہ کیا یہانتک کہ میں قبا میں پہنچا ۔اُخوت رَسُول:حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ سرکار مدینہ ﷺ کے داماد اور چچا زاد بھائی ہونے کے ساتھ”عقد مواخاة “ میں بھی آپ کے بھائی ہیں جیسا کہ ترمذی شریف میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب مدینہ طیبہ میں اُخوت یعنی بھائی چارہ قائم کیا دو دو صحابہ کو بھا ئی بھائی بنایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے سارے صحابہ کے درمیان اخوت قائم کی ۔ایک صحابی کو دوسرے صحابی کا بھائی بنایا مگر مجھ کو کسی کا بھائی نہ بنایا میں یوں ہی رہ گیا ۔ تو سرکار مدینہ ﷺ نے فرمایا :انت اخی فی الدنیا والاٰخرة۔یعنی تم دنیا اور آخرت دونوں میں میرے بھائی ہو۔(مشکوٰة شریف564)
آپ کی شجاعت:حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شجاعت اور بہادری شہرہ¿ آفاق ہے ،عرب و عجم میں آپ کی قوت بازو کے سکے بیٹھے ہوئے ہیں آپ کے رعب و دبدبہ سے آج بھی بڑے بڑے پہلوانوں کے دل کانپ جاتے ہیں ۔جنگ تبوک کے موقع پر سرکار مدینہ ﷺ نے آپ کو مدینہ طیبہ پر اپنا نائب مقرر فرمادیا تھا اس لئے اس میں حاضر نہ ہو سکے باقی تمام غزوات و جہاد میں شریک ہوکر بڑی جانبازی کے ساتھ کفار کا مقابلہ کیا اور بڑے بڑے بہادروں کو اپنی تلوار سے موت کے گھاٹ اتاردیا۔
جنگ بدر میں جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اسود بن عبد الاسد مخزومی کو کاٹ کر جہنم میں پہنچا یا تو اس کے بعد کافروں کے لشکر کا سردار عتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اور اپنے بیٹے ولید بن عتبہ کو ساتھ لے کر میدان میں نکلا اور چلاّ کر کہا کہ اے محمد ! (ﷺ) ، اشراف قریش میں سے ہمار ے جوڑ کے آدمی بھیجئے ۔حضور ﷺ نے یہ سن کر فرمایا ۔اے بنی ہاشم !اُٹھو اور حق کی حمایت میں لڑو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کو بھیجا ہے ۔حضور ﷺ کے اس فرمان کو سن کر حضرت حمزہ ،حضرت علی اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہم دشمن کی طرف بڑھے ۔لشکر کے سردار عتبہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے مقابل ہوا اور ذلت کے ساتھ مارا گیا،ولید جسے اپنی بہادری پر بہت بڑا ناز تھا وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ کے لئے مست ہاتھی کی طرح جھومتا ہوا آگے بڑھا اور ڈینگیں مارتا ہوا آپ پر حملہ کیا مگر شیر خدا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے تھوڑی ہی دیر میں اسے مار گرایا اور ذوالفقار حیدری نے اس کے گھمنڈ کو خاک و خون میں ملا دیا۔اس کے بعد آپ نے دیکھا کہ عتبہ کے بھائی شیبہ نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو زخمی کر دیا ہے تو آپ نے جھوٹ کر اس پر حملہ کیا اور اسے بھی جہنم پہنچا دیا۔
جنگ احد میں جب کہ مسلمان آگے اور پیچھے سے کفار کے بیچ میں آگئے جس کے سبب بہت سے لوگ شہید ہوئے تو اس وقت سرکار مدینہ ﷺ بھی کافروں کے گھیرے میں آگئے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ اے مسلمانو! تمہارے نبی قتل کر دئےے اس اعلان کو سن کر مسلمان بہت پریشان ہو گئے یہانتک کہ اِدھر اُدھر ہو گئے بلکہ ان میں سے بہت لوگ بھاگ بھی گئے ۔حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ جب کافروں نے مسلمانوں کو آگے پیچھے سے گھیر لیا اور رسول اللہ ﷺ میری نگاہ سے اوجھل ہوگئے تو پہلے میں نے حضور ﷺ کو زندوں میں تلاش کیا مگر نہیں پایا پھر شہیدوں میں تلاش کیا وہاں بھی نہیں پایا تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ حضورﷺ میدان جنگ سے بھاگ جائیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پاکﷺ کو آسمان پر اُٹھالیا ۔اس لئے اب بہتر یہی ہے کہ میں بھی تلوار لیکر کافروں میں گھس جاﺅں یہانتک کہ لڑتے لڑتے شہید ہو جاﺅں۔
آپ کی شہادت:حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے 17رمضان المبارک 40 ھ کو علی الصبح بیدار ہو کر اپنے بڑے صاحبزادے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا آج رات خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت ہوئی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کی امت نے میرے ساتھ کجروی اختیار کی ہے اور سخت نزاع برپا کر دیا ہے ۔حضور ﷺ نے فرمایا تم ظالموں کے لئے دعا کرو۔تو میں نے اس طرح دعا کی کہ یا الٰہ العالمین ! تو مجھے ان لوگوں سے بہتر لوگوں میں پہنچا دے اور میری جگہ ان لوگو پر ایسا شخص مسلط کر دے جو برا ہو۔ابھی آپ یہ بیان ہی فرمارہے تھے کہ مو¿ذ ن نے آوازدی الصلاة الصلاة ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز پڑھانے کے لئے گھر سے چلے ۔راستے میں لوگوں کو نماز کے لئے آواز دے دے کر آپ جگاتے جاتے تھے کہ اتنے میں ابن ملجم آپ کے سامنے آگیا اور اس نے اچانک آپ پر تلوار کا بھرپوروار کیا وار اتنا سخت تھا کہ آپ کی پیشانی کنپٹی تک کٹ گئی اور تلوار دماغ پر جا کر ٹھہری ۔ شمشیر لگتے ہی آپ نے فرمایا :فزت برب الکعبة۔یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا ۔آپ کے زخمی ہوتے ہی چاروں طرف سے لوگ دوڑ پڑے اور قاتل کو پکڑ لیا۔(تاریخ الخلفائ)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*