مسجد نبوی میں دہشت گردی کی کوشش ۔۔۔ کیا مسلمان کی کارروائی ہے؟؟

مسجد نبوی میں دہشت گردی کی کوشش ۔۔۔ کیا مسلمان کی کارروائی ہے؟؟

تحریر: محمد ناصر
سعودی عرب میں یکے بعد دیگرے چار دھماکوں کے بعد پورے ملک میں ایک سوگوار ی کیفیت ہے جبکہ داخلی امور چلانے والے حکام پریشان ہیں کہ آیا مسجد نبوی جیسے بابرکت مقام پر دھماکے کی کوشش کس نے کی ۔ پیارے حبیب محمد مصطفیﷺ کی مسجد نبوی میں لاکھوں عاشقان رسول آہوں اور سسکیوں میں اپنے پیارے حبیب کو یاد کرتے ہیں مگر اس مقدس مقام تک خود کش حملے کی کوشش سمجھ سے بالا تر معلوم ہوتی ہے ۔ کیا یہ ایک عالمی سازش ہے یا فرقہ واریت کی جنونیت بے قابو ہو چکی ہے ۔ سب سے پہلے عالمی سازش کا مفروضہ ذہن میں رکھتے ہوئے کچھ اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر یہ ایک عالمی سازش تھی ۔۔ تو اس کا مطلب کیا ہو سکتا ہے ۔۔ ؟؟ امت مسلمہ میں مزید تفریق پیدا کی جائے ۔۔ !! اس کاجواب یہ ہے امت مسلمہ تو اس قدر انتشار کا شکار ہے اس میں مزید تفریق پیدا کرنے کی چنداں ضرورت ہی نہیں ۔۔۔ دوسرا اگر یہ قیاس کیا جائے کہ مسجد نبوی میں موجود ہزاروں نمازیوں کو نشانہ بناتے ہوئے خوف و ہراس پھیلایا جائے تو اس کی بھی کچھ منطق سمجھ نہیں آتی ۔ ۔۔ عرب میڈیا کے مطابق خود کش بمبار کی داڑھی کے شواہد ملے ہیں جس سے ظاہر ہوتا نظر آتا ہے کہ یہ فرقہ واریت کا شاخسانہ ہو سکتا ہے ۔۔ اسی طرح تیسرا مفروضہ یہ جنم لیتا ہے کہ اگر یہ کسی مسلمان کی ہی کوشش تھی تو اس کے مقاصد کیا ہو سکتے ہیں ۔د اعش کے بارے تقریباسب ہی یہ مان چکے ہیں کہ جو ©”شریعت“ وہ لانا چاہتے ہیںاس کا اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں ۔ تو کیا یہ داعش کی کارروائی ہے ؟؟؟ معاملہ تیر کی طرح سیدھا نہیں ۔۔ نہ ہی اس میں کچھ واضح کڑیاں ملتی نظر آرہی ہے ۔۔ لیکن قیاس کیا جا سکتا ہے کہ یہ کسی غیر مسلم کی نہیں ۔۔۔ بلکہ داعش کے ہی کارندوں کی کارروائی ہو سکتی ہے ۔کیونکہ اس سے قبل داعش سعودی عرب میں متعدد مقامات پر کارروائیاں کر چکی ہے جس میں عرب آئل ریفائنری اور چند مقصد مقامات بھی شامل ہیں ۔
ایک دھماکہ اذان مغرب سے ایک منٹ قبل اور دوسرا بعد میں پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ دھماکے وقت پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد افطاری کرنے میں مصروف تھی ۔ پہلا دھماکہ جدہ میں امریکی قونصلیٹ جنرل کے سامنے ہوا جس کے نتیجے میں 2پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ دوسرا قطیف شہر مسجد کے قریب ہوا، تیسرا اور چوتھا دھماکہ مدینہ منورہ میں ہوا۔ مدینہ منورہ میں ہونے والے دونوں دھماکے کے خودکش تھے۔معاملہ کچھ بھی ہو ۔۔ یہ بات یقینی ہے کہ اگر یہ داعش کی کارروائی ہے تو داعش کا ایجنڈا مذموم اور گمراہ کن ہے ۔۔ اور اگر یہ غیر ملکی طاقتوں کی ایما پر کسی غیر مسلم کی کارروائی ہے تو اس پر مزید غور و فکر کی ضرورت ہے ۔۔ معاملہ کچھ بھی نکلے ۔۔ یہ بات یقینی ہے کہ اس واقعے نے مسلمانوں کا دل دہلا دیا ہے ۔۔۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*