ملک میں ٹیلنٹ نہیں ۔۔۔ آفریدی کا کڑوا سچ

ملک میں ٹیلنٹ نہیں ۔۔۔ آفریدی کا کڑوا سچ

قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے برطانوی نشریات ادارے کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کچھ ایسا کہہ دیا جس سے ایک مرتبہ پھر میڈیا کی توپوں کا رخ لالہ جی کی طرف ہو گیا ہے ۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ملک میں عالمی کرکٹ کی طلب کے مطابق ٹیلنٹ نہیں رہا یہی وجہ ہے کہ اچھے کھلاڑی سامنے نہیں آرہے ۔ اسی طرح انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی تعریف مناسب سمجھی اور کہا کہ اب بھی وہ بہت سے کھلاڑیوں سے بہتر ہیں ۔ شاہد آفریدی کے بیان کو میڈیا نے روایتی انداز میں آڑے ہاتھوں لیا اور دل کھول کر بھڑاس نکالی ۔

آفریدی کا بیان تو ایک طرف ۔۔ لیکن کیا واقعی پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی ہو چکی ہے ؟

آفریدی کا بیان ۔۔ جس میں انہوں نے اپنےآپ کو بہتر کھلاڑی کہا اس پر تو کئی حلقوں کو اعتراض ہو سکتا ہے کیونکہ سب جانتے ہیں شاہد آفریدی ڈھلتی عمر کے ساتھ ساتھ اب پہلے کی طرح نہیں رہے ۔ گزشتہ کئی میچوں میں یہ واضح ہو چکا ہے کہ شاہد آفریدی کی کرکٹ خاتمے کے قریب ہے ، بعض تجزیہ کار تو واضح کہہ چکے ہیں کہ آفریدی کے پاس ریٹائرمنٹ کے سواکوئی چارہ نہیں ۔ یہ بات تو ہوگئی ٹھیک ۔۔ مگر شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ اب ویسا نہیں رہا ۔۔۔تو حقیقت یہ ہے کہ شاہد آفریدی کے اس دعوے میں سچائی ہے اور بات میں وزن ہے ۔

حقیقت یہی ہے کہ پاکستان نے کئی عرصہ سے ورلڈ کلاس کھلاڑی پیدا ہی نہیں کئے ۔ اس کی واضح مثال پاکستان سپر لیگ اور قائد اعظم ٹرافی کے ساتھ ساتھ ملک میں ہونے والے چند ٹورنامنٹ تھے جس میں ایک بھی کھلاڑی عالمی معیار کا دکھائی نہیں دیا ۔ پاکستان سپر لیگ میں نوجوان کھلاڑیوں کو اپنا کھیل پیش کرنے کا بھرپور موقع دیا گیا مگر کرکٹ پنڈتوں نے دیکھ لیا کہ ان میں سے ایک بھی کھلاڑی ایسا نہ تھا جو ورلڈ کلاس ظاہر ہوتا۔ شرجیل خان نے پی ایس ایل کے ایک میچ میں جارحانہ انداز میں سنچری اسکور کی جس کے بعد سے اب تک ان کا بلا مکمل خاموش ہے ۔ اس کے علاوہ کسی بھی بیٹسمین نے قابل قدر کارکردگی نہیں دکھائی ۔ بالروں کی اگر بات کی جائے تو اس شعبے میں بھی مایوسی کے بادل ہیں ۔ کسی ایک گیند باز کی سپیڈ بھی 145کلومیٹر فی گھنٹہ نہیں دیکھی گئی ۔ نہ ہی اپنی سوئنگ سے کسی بالر نے متاثر کرنے کی کوشش کی ۔ پاکستان کپ کا حال بھی سب کے سامنے تھا جب فیصل آباد میں کرکٹ کی رعنائیاں پوری طرح جاری رہیں ۔ لیکن فیصل آباد کے عوام نے بھی اس ٹورنامنٹ کی سست رفتاری پر مایوسی کا اظہار کیا ۔ یہاں بھی کوئی جونیئر کھلاڑی قابل قدر کھیل پیش نہ کر پایا ۔ دوسری جانب عالمی کرکٹ میں بھی کوئی نیا کھلاڑی وسیم اکرم ، وقار یونس، سعید انور، انضمام الحق اور محمد یوسف کی جگہ لیتا دکھائی نہیں دیتا۔۔۔ بھارتی آئی پی ایل کی مثال سب کے سامنے ہے جس نے کئی بھارتی بلے بازوں کو متعارف کرایا ہے جس کے بعد اب کرکٹ حلقے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ بھارت میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان میں کرکٹ ٹیلنٹ پھر کہاں چلا گیا ۔۔۔ تو اس کا جواب اتنا ہی سادہ ہے ۔۔ ٹیلنٹ تلاش کرنے سے ملتا ہے ، فی الحال کرکٹ بورڈ کو جو ٹیلنٹ ملا ہے اس میں کوئی دم نہیں ۔۔۔ایسے میں شاہد آفریدی کا بیان غلط نہیں ۔۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان میں اب ٹیلنٹ سامنے نہیں آرہا اس کی وجہ یہی کرکٹ کا روایتی فرسودہ نظام ہے جو کرکٹ بورڈ نے متعارف کرا رکھا ہے ۔ ڈومیسٹک میچز کی تعداد کم ہے جبکہ کلب کرکٹ والوں کے پاس وسائل ہی پورے نہیں ۔ گراونڈز کی قلت ہے جبکہ جہاں گراونڈز موجود ہیں وہاں ٹیلنٹ ہی نہیں ۔۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ کرکٹ بورڈ اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائی ۔۔ سفارشی اور سازشی کلچر ختم کیا جائے اور کرکٹ ہنٹ جیسے پروگرام شروع کئے جائیں ، کلب اور کالج لیول کرکٹ کو فروغ دینے کے لئے متعلقہ اداروں کو فنڈز دیئے جائیں جس کے بعد ٹیلنٹ ملنے کی قوی امید ہے ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*