فائنل ومبلڈ ن اور یورو کپ 2016

فائنل ومبلڈ ن اور یورو کپ 2016

تحریر :عارف جمیل

کھیلوں کی دُنیا میں 2016ءکی تاریخ کے دو بڑے ٹورنامنٹ ومبلڈن اوپن ٹینس اور یورو کپ فُٹبال کے فائنل ایک ہی دِن اتوار10جولائی2016ءکو کھیلے گئے جو دُنیا بھر کے شائقین کیلئے دِلچسپی کا باعث رہے۔

Stade_des_Lumières_-_24_janvier_2016

:ومبلڈن کا فائنل
10 جولائی2016ءکوبرٹش کے29سالہ اینڈی مرے کے مقابل فائنل میں کینیڈا کا 25سالہ مائیلوس رائیونویچ تھا اور سامنے بیٹھے ہوئے شائقین میں شامل تھے وزیرِاعظم انگلینڈ ڈیوڈ کیمرون،شہزادہ ولیم اور اُسکی بیوی شہزادی کیٹ میڈلٹن۔ پہلا سیٹ تو اینڈی مرے نے بہترین کھیل کے ساتھ 4-6سے جیت لیا لیکن دوسرے سیٹ میںمائیلوس نے سخت مقابلہ کر کے میچ میں دِلچسپی پیدا کر دی جسکی وجہ ایک لمبا سیٹ کھیلا گیا اور اینڈی مرے نے اپنے تجربے سے 6-7سے کامیابی حاصل کرلی۔ جبکہ تیسرے سیٹ میں بھی ایک زبردست مقابلہ دیکھنے کو ملا لیکن مائیلوس ہار گیا اور اینڈی مرے نے وہ سیٹ بھی6-7سے جیت کر دوسری دفعہ ومبلڈن ٹائٹل حاصل کر لیا۔کہاں 77سال بعد 2013 ءمیں اینڈی مرے نے اپنے ملک کیلئے کامیابی حاصل کی تھی اور کہاں پھر صرف 3سال بعد ہی اُس نے ایک دفعہ پھر اپنے ملک کا جھنڈا لہرا دیا۔جس کے بعد وہ برٹش کا ٹینس ہیرو بن گیا۔
2گھنٹے47منٹ جاری رہنے والے اس میچ کے بعد اینڈی مرے نے ٹرافی وصول کی اور بعدازاں شہزادہ ولیم اور اُسکی بیوی شہزادی کیٹ میڈلٹن نے اُس سے مل کر مبارک باد دی۔

e7ntgr1xm48z0ng1j60b
اس فائنل سے پہلے اُمید تھی کہ مردوں میں ٹورنامنٹ کا سب سے اہم کھلاڑی ماضی کا نمبر1اور موجودہ سال کاسیڈ نمبر3 راجر فیڈر ر ہی رہے گا جو 2012ءتک 7دفعہ ومبلڈن ٹائٹل جیت کر 2ماضی کے کھلاڑیوں کی صف میں برابر پر کھڑا تھا۔ 2014ءاور 2015ءمیں وہ بالترتیب ومبلڈن کے فائنل میں پہنچا چکا تھا لیکن دونوں دفعہ چوکووچ کے ہاتھوں شکست کھانے کے باعث نیا ریکارڈ نہیں بنا سکاتھا۔ لیکن اس دفعہ سیمی فائنل میں ہی بازی ہار گیا۔
بہرحال 9 ِ جولائی2016ءکو خواتین کے ومبلڈن ٹینس کے مقابلے کیلئے میدان سجا تو شائقین کی نظریں سرینا ولیم کی اُس کامیابی کی طرف تھی جسکے لیئے وہ2016ءکے پہلے دو گرینڈ سلام کے فائنلز میں شکست کھا چکی تھی اور اُن میں سے بھی پہلے یعنی اَسٹریلین اوپن میں شکست دینے والی جرمنی کی4 سیڈ انجلیک کربر فائنل میں اُسکی مد ِمقابل تھی۔مقابلہ آغاز میں ہی زبردست ہو گیا اور ایک موقعہ پر 4-4 ،5-5پر دو نوں برابر تھیں کہ اگلے ہی لمحے سرینا ولیم نے شاید اپنی زندگی بھر کا تجربہ لگا کر 5-7سے پہلا سیٹ اپنے حق میں کر لیا جس پر وہ خوشی سے چلائی بھی۔
اگلا سیٹ تھا مقابلے والا لیکن سرینا ولیم جیت کی خواہش لیکر آئی تھی اور3-6 سے کربر کو ہارا کر اُس میں حقیقت کا رنگ بھر دیا۔پھر ریکٹ اُچھالتے ہوئے کورٹ میں ہی لیٹ گئی کیونکہ اُس نے یہ فائنل بھی جیتا اور ایک بہت بڑا ریکارڈ جو جرمن ٹینس کھلاڑی سٹیفی گراف نے 22گرینڈ سلام جیت کر بنایا تھا بھی برابر کر دیا ہے ۔ سرینا کا کمال یہ رہا کہ پورے ٹورنامنٹ میں تما م مقابلوں میں صرف ایک سیٹ میں شکست کھائی گو کہ باقی دو سیٹ جیت لیئے اور دلچسپ یہ کہ جرمانہ بھی اُس ہی میں ہوا۔

euro-2016-spain-winners

:یورو کپ فائنل
10جولائی کو پیرس میں فرانس اور پرتگال کے درمیان ہونے والے یورو کپ فُٹبال فائنل سے پہلے رَش کی وجہ سے شائقین کو ٹکٹیں نہ ملنے پرس ایفل ٹاور کے قریب شدید قسم کا ہنگامہ ہو گیااور انتظامیہ کی مطابق غنڈہ گردی تک کی گئی جس پر آنسو گیس کے استعمال کے بعد حالات قابو میں کیئے گئے۔دوسری طرف دونوں ممالک کے درمیان زوردار مقابلہ شروع ہوا اور ایک دوسرے پر گول کرنے کے بہت سے مواقعے بھی ملے لیکن کہیں گول کیپرز نے کمال دکھائے اور کہیں پول کو لگ کر یقینی گول ہوتے ہوئے رہ گیا۔

epa04974235 Max Kruse of Germany celebrates scoring the 2-1 with teammates during the UEFA EURO 2016 qualifying Group D soccer match Germany vs Georgia in Leipzig, Germany, 11 October 2015. EPA/Jan Woitas

کھیل کے 8ویں منٹ میں فرانس کے کھلاڑی کی رونالڈو سے شدید ٹکر ہوئی جس کی وجہ سے رونالڈو کے بائیں گھٹنے پر چوٹ آگئی۔ لہذا کچھ دیر بعد اُسکو سٹریچر پر باہر لیکر جایا گیا اور میچ کے دوران پرتگال کی طرف سے وقفے وقفے سے سانچز اور سلوا بھی باہر چلے گئے اوراُن تینوں کی جگہ جو متبادل کھلاڑی کھیلنے آتے رہے اُن میں سے ایک” انطونیو ایڈیر” بھی تھا۔ بہرحال دونوں ہاف میںگول نہ ہونے کی وجہ سے اصول کے مطابق مزید وقت دیا گیا جسکے بعد میچ کے 109ویں منٹ میں پرتگال کے متبادل کھلاڑی” انطونیو ایڈیر”نے ہی ایک شاندار کک لگا کر فرانس پر گول کر کے 0-1کی برتری حاصل کر لی اور پھر چند منٹ بعد زائد وقت ختم ہونے پر” پرتگال” کی ٹیم پہلی دفعہ یورو کپ فُٹبال ٹورنامنٹ جیت گئی۔دلچسپ یہ تھا کہ ٹیم کواس میچ میں کامیابی رونالڈو کے بغیر حاصل ہوئی ۔
پرتگال اس سے پہلے یورو کپ میں دو دفعہ کواٹر فائنل میں پہنچ چکا تھا،تین دفعہ سیمی فائنل میں اور ایک دفعہ2004ءمیں فائنل میں پہنچ کے یونان سے شکست کھا گیا تھا۔بہر حال پرتگال کے کپتان کسٹیانورونالڈو نے ٹیم کے ساتھ مل کر تقریب میں ٹرافی وصول کی اور پھر پرتگال کی ٹیم اور وہاں پر موجود پرتگالی شائقین کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*