کتاب اور ہزار زندگی

کتاب اور ہزار زندگی

تحریر،عمر رائے
اہل ذوق کتاب کو زندگی کا سکون کہیں یا اس زندگی کے اختتام کے بعد ملنے والی جنت میں نہیں مانتا کیوں کہ سکون اور جنت کا وجود زندگی کا محتاج ہے ۔اوریہ دونوں زندگی کے بغیر نہ تو کوئی معنی رکھتی ہیں اور نہ ہی انکی خواہش جنم لے سکتی ہے ۔ اہل ذوق حسب روائت اپنے دانش کدہ قدیم کی دیوار نہ گرنے دیں تو انکی مرضی ہے البتہ میرا یہی ماننا ہے کہ کتاب خود ہی ایک زندگی بلکہ ہزار زندگی ہے جو اختتام اور موت کے قرب و جوار میں بھی نہیں بھٹکتی ،رہی بات سکون کی تو سکون زندگی سے ماخذ ہے زندگی سکون سے نہیں اور ہا ں یاد آیا جارج مارٹن نے کہا تھا کہ ،،کتاب کا قاری مرنے سے پہلے ایک ہزار زندگی جیتا ہے،،اس ہزار زندگی کے تصور کا یقین تو ضرور ہے کیو نکہ ہر کتاب ایک الگ زندگی ہے اور اس کا ہر درس زندگی کی تلخ حقیقت ہے مگر اس ہزار زندگی کی تکالیف اور تلخ حقائق کا سامنا کرنا حقیقت نہیں لگتی ،خاص طور پر وطن عزیز کی خون آلود فضاﺅ ں میںجہاں ایک ہی زندگی یہاں کے نا خداﺅں نے دوبارہ جینے سے تائب کر دینے والی بنا دی ہے۔ یہ وہ واحد کمزوری ہے جس کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے اہل ذوق یا اہل طوق کے سامنے جھکنا پڑے گا ۔ خیر ہمیں کیا ایک زندگی تو گزار کر دیکھیںباقی بعد کی بات ہے بعد میں دیکھیں گے ۔کتاب اور ذوق مطالعہ کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں اس سے بڑھ کر اور کیا کہا جا سکتا ہے کہ اقوام کی تقدیر کے فیصلے میں سب سے بڑا محرک کتاب اوراس کا مطالعہ ہو اکرتا ہے۔ اقوام کی تقدیر کا فیصلہ جب بھی ہو اور جہاں پر بھی اور جو بھی کرے وہ فیصلہ کرتے وقت اس قوم کے علمی ذخائر اور اس قوم کی ان ذخائر کی طرف رغبت کو ضرور دیکھتا ہے۔ دور جدید کی تمام کرتا دھرتا اقوام دیکھ لیں ان میں شائد ہی کوئی ایسی نظر آئے جس کی تقدیر کا ستارہ کتاب کی شعاﺅں سے نہ چمکا ہو ۔برطانیہ کی مثال لیجیے وہاں نصف سے زائد آبادی کتاب کو نشہ کی طرح استعمال کرتی ہے ۔چند سال قبل ہونے والے سروے کے مطابق برطانیہ کی نصف سے زائد آبادی سال کے دوران پانچ سے زائد کتب پڑھتی ہے،70فی صد نو جوان اخبا ر اور رسالہ پڑھنے کے عادی ہو چکے ہیں اور برطانیہ میں مجموعی طور پرسالانہ 2.9بلین پاﺅنڈز سے زائد رقم کتب کی خریداری پر خرچ کی جاتی ہے اور انٹر نیٹ پر سب کچھ دستیاب ہو نے کے با وجود ہر آنے والا نیا سال اس رقم میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔برطانیہ کو چھوڑیے امریکہ کو دیکھیے جہاں ملک بھر میں32000سے زائد صرف پبلک لائبریریز ہیں اور ان میں سے صرف ایک لائبریری آف کا نگریس میں 90ملین سے زائد کتب ہیں،نجی اور انفرادی کتب خانے اس اعدادو شمار سے قطعا الگ ہیں ۔اس قوم کا کتاب اور اس کے مطالعہ کی طرف دھیان، وہ حقیقت ہے اور ہمارے لیے اب بھی راز ہے جس کے باعث یہ قوم آج پوری دنیا کو اپنی کھیتی سمجھتی ہے وہ اسی کتاب کی کثرت اور اس کی طرف توجہ ہے ۔ آپ اس توجہ کا اندازہ اس امر سے لگا لیں اس ملک کی صرف ایک لائبریری میں 90ملین کتابیں موجود ہیں جبکہ آپکے پورے ملک پاکستان میں صرف 15ملین کتب موجود ہیں ،آپ اندازہ کر سکتے ہیں ہم کتنا پیچھے ہیں ان لوگوں سے ۔مجھے امریکہ کی تعریف کا شوق نہیں اور نہ ہی میں اس قوم اور حکومت کے کارناموں یا مسلم کشی کو داد دے رہا ہوں مگر میں انکی اصل قوت جس کی بنا ءپر قوم یہ سب کرنے کے قابل ہوئی ہے اس کو ضرور سلام کرتا ہوں کیو نکہ وہ سلام کی حقدار ہے ۔ اسرائیل جس کی آبادی آج سے سترہ سال قبل صرف 5ملین تھی اس وقت وہاں عوامی کتب خانوں کی تعداد 3420تھی،حتی کہ تنز انیہ جیسے غریب ملک کے دیہات میں 3300سے زائد عوامی کتب خانے ہیںجو ملک کے صرف پسماندہ علاقوں میں طلباءاور کتاب سے رغبت رکھنے والے افراد کی سیوا کے لیے ہے ۔ یہاں ہو سکتا ہے ہماری ملی غیرت اچانک سے جاگ جائے اور ہم اس حقیقت کو بھی حسب روایت مغرب کی سازش قرار دے دیں اس لیے ہماری چرب زبانی کی وجہ مطلب ہمارے اسلاف کی داستان حاضرخدمت ہے۔اموی خلیفہ ولید بن یزید کے قتل کے بعد جب اس کی ذاتی لائبریری سے کتابیں منتقل کی جا رہی تھی تو صرف ایک مصنف ابن شہاب زہری کی مرویات اور تالیفات گھوڑوں اور گدھوں پر لاد کر لائی گئیں۔ ہسپانیہ کے مسلمان خلیفہ الحکم ثانی المتنصر باللہ کے متعلق معروف مورخ ڈوزی اپنی تصنیف عبرت نامہ اندلس میں لکھتے ہیں ،،گو خلیفہ الحکم کے بزرگ بھی عالم و علم دوست اور کتابیں جمع کرنے کے شائق تھے لیکن الحکم کے برابر عالم و فاضل بادشاہ اسپین کی تاریخ میں نہیںگزرا ،نہ علوم و معارف میں کسی کو اتنی قدرت ہوئی اور نہ ہی کسی نے اتنی کتابیں جمع کیں۔خلیفہ کے گماشتے ہر وقت قاہرہ ،بغداد ،دمشق اور سکندریہ حتی کہ ہندوستان میں بھی موجود رہتے اور مختلف زبانوں میں چھپنے والی پرانی اور نئی کتابوں کو یا تو خرید کر یا نقل کر کے خلیفہ کے دربا رمیں ارسال کر دیتے ،جہاں ہر طرف کاتب ، خطاط اور جلد ساز اپنے کام میں مصروف دکھائی دیتے تھے،، ۔المتنصر باللہ کے کتب خانے میں موجود کتابوں کی فہرست 44 جلدوں پر مشتمل تھی اور ہر جلد 50اوراق پر مبنی تھی ۔ ان تما م جلدوں میںلائبریری میں دستیاب کتابوں کے صرف نام موجود ہو اکرتے تھے ۔ اس لائبریری میں موجود کتابوں کی مجموعی تعداد بعض مورخین کے مطابق 4لاکھ اور بعض کے مطابق6لاکھ تھی، ان تمام کتابوں کو خلیفہ نے خود پڑھا تھا اور ان میں سے اکثر کتابوں پر خلیفہ کے ہاتھ سے لگے نشان اور حاشیے بھی موجود تھے جو اس بات کی نشاندہی کرتے تھے کہ خلیفہ نے کتابیں نہ صرف پڑھنے کی کوشش کی ہے بلکہ ان کو ہضم کرنے کی چارہ جوئی بھی کی ہے ۔شائد تقدیر اور تدبیر نے اپنا تضاد اس عظیم علمی ذخیرے کی بقا ءکے متعلق بھی ظاہر کرنا تھا اور اس ععلوم عقلیہ اور علوم نقلیہ کے اتنے بڑے ذخیرے کو کوڑا کرکٹ کی طرح جلنا تھا ۔ جی ہاں یہ ہو چکا ہے اسپین میں مسلمانوں کے چند آخری سال نہ صرف زندہ رہنے والے 30لاکھ مسلمانوں کے لیے اذیت ناک تھے بلکہ
اس علمی ذخیرے کے لیے بھی عذاب کے لمحات تھے ۔صرف غرناطہ شہر میں ایک لاکھ عربی کتاب نصرانیوں نے گلی کو چوں میں جلا کر چراغاں کیا اور پندرہویں صدی کے آخر میں اندلس کے لارڈ فرانسکو شمینس کی ہدایت پر مسلمانوں کے علمی ذخائر جلائے جانے لگے اور اندلس میں موجود دس لاکھ سے زائد کتب کا ذخیرہ باب الرملہ میں ڈھیر کر کے جلایا گیا جس سے آٹھ سو سال کی فنی اور علمی مہارت بھی جل گئی اور مسلمانوںکے زوال کا اسباب بھی شروع ہو گیا ،جس کے بعد رفتہ رفتہ دنیا کی عظیم حکومت اختتام کی طرف چلی گئی ۔یہ تما اعدادو شمار اور حقائق کتاب کی آفادیت اور اس کی اہمیت واضح طور پر ظاہر کر رہے ہیں اور پاکستانیوں سے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ لوگوں کے ہجوم کو قوم بنانے کے لیے سب سے بہترین آلہ کتاب ہے ۔لیکن اس کے باوجود پاکستان میں اس نعمت عظمی کی مقدار ار ، میعار اور قدر چونکا دینے والی ہے ۔جس سے اہل اقتدار اور اہل اختیار کی ترجیحات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ایک محتاط تخمینے کے مطابق پاکستان میںمجموعی طور پر1500سے کچھ زائد لائبریز ہیں جن میں نجی درسگاہوں اور مدرسہ جات سے منسلک کتب خانے بھی شامل ہیں اور ان تمام کتب خانوں میں 15ملین تک کتابیں موجود ہیں ۔ملک میں سب سے ذیادہ کتابیں نیشنل لائبریری آف پاکستان میں موجود ہیں جن کی تعداد 120000کے لگ بھگ ہے۔مذکورہ تعداد میں سے اکثر کتب خانے براہ نام ہیں جہاں اخبار کا پہنچنا بھی سعی لا حاصل ہے۔ملک میں موجود سکولوںجن کی تعداد 170000سے تجاوز کر چکی ہے، میں سے1000سکولوں میں لائبریریز کاخاطر خواہ اہتما م کیا گیا ہے ۔ اس حد تک کتاب سے دوری اور مطالعہ سے پرہیز یقینا ہمارے جیسے انتہا پسند اور پتھر دل معاشرے کی بڑھوتری کے لیے کافی ہے ، جوگزشتہ ادوار میں ہم نے اور ہمارے مجاہدکمانڈروں نے من مرضی کے اسلام کا بول بالا کرنے کے لیے تعلیمی اداروں میں قلم، کتاب اور انسانیت سے محبت کی بجائے ہتھیار تھما دیئے تھے آج اسی غلطی کے ازالے کے لیے انھیں تعلیمی اداروں کے معصوم بچوں کی قربانی دینی پڑ رہی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انفرادی ،حکومتی اور قومی سطح پر کتاب اور اس کے مطالعہ سے رغبت دینے کے لیے با قائدہ پروگرام کا آغاز کیا جائے ،کتاب کی خریداری پر قارئین اور بطور خاص طلباءکو سبسڈی فراہم کرنے کے لیے بجٹ میں رقم مختص کی جائے اور کاغذ کی پیداوار کو ٹیکس فری کیا جائے کیونکہ ایک عام کتاب کی قیمت 300 سے لے کر 1000روپے تک ہے جو کہ بہت ذیادہ ہے اور اتنی مہنگی کتاب صاف پانی کے قطروں اور روٹی کے لقموں کو للچائی نظروں سے دیکھنے والے پاکستانی نہیں خرید سکتے اور اس رقم میں گولیا ں اور بارود کی ایک بڑی مقدار خریدی جا سکتی ہے جسے اپنی زندگی کے خاتمے کے ساتھ کئی دوسری زندگیاں بھی ختم کی جا سکتی ہیں ۔ہمیں اس وقت میسر تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے کتاب کو معاشرے کا انمول ہیرا بنانا ہو گا تاکہ آنے والی نسلوں کو تو پر امن ،نرم دل اور جارج مارٹن کے مطابق ہزار زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*