کرکٹ میں دھمکیوں اور تشدد کی کوئی گنجا ئش نہیں

کرکٹ میں دھمکیوں اور تشدد کی کوئی گنجا ئش نہیں

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ مارپیٹ اور امپائرز کو دھمکیاں دینے والے کھلاڑیوں کو میدان سے باہر بھیجے جانے کے قانون سے  منفی واقعات میں کمی آئے گی جبکہ کھلاڑی اور امپائرز خود کو زیادہ محفوظ تصور کریں گے۔ ایم سی سی کی ورلڈ کرکٹ کمیٹی نے اپنے حالیہ اجلاس میں جسمانی تشدد اور امپائرز کو دی جانے والی دھمکیوں کے مسلسل واقعات کے مشاہدے کے بعد سفارش منظوری کے لیے بھیجی ہے کہ امپائرز کو اس طرح کی حرکت کرنے والے کسی بھی کھلاڑی کو میدان سے باہر بھیجنے کا اختیار دیا جائے۔اگر آئی سی سی نے اس کی منظوری دے دی تو اس قانون کو آئندہ سال اکتوبر سے نافذ کر دیا جائے گا۔رمیز راجہ نے جو ایم سی سی کی ورلڈ کرکٹ کمیٹی کے رکن ہیں ان سے کہا  کہ کلب اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایسے بے شمار واقعات سامنے آئے ہیں جن میں کھلاڑی تشدد میں ملوث ہوئے ہیں اور انہوں نے امپائرز کوبھی دھمکیاں دی ہیں۔لہٰذا ایم سی سی کی کرکٹ کمیٹی نے یہ ضروری سمجھا ہے کہ امپائرز کو طاقتور بنایاجائے اور ان کے پاس یہ اختیار ہو کہ اگر کوئی بھی کھلاڑی جسمانی حملے مارپیٹ یا ڈسپلن کی خلاف ورزی کے سنگین واقعے میں ملوث پایا جاتاہے تو اسے وہ فوری طور پر میدان سے باہر بھیج دیں اور وہ کھلاڑی اس میچ میں مزید حصہ لینے کا اہل نہیں ہوگا۔رمیز راجہ نے کہا کہ کمیٹی کے سامنے ایسی کئی مثالیں پیش کی گئی ہیں کہ نئے امپائرز امپائرنگ کے لیے تیار نہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ان کی کوئی عزت نہیں ہے۔یہ بہت ہی خطرناک صورتحال ہے ۔ایم سی سی کی کرکٹ کمیٹی نے بیٹ کی موٹائی کی حد 40 ملی میٹر مقرر کرنے کی بھی سفارش کی ہے ۔ رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد بیٹ اور گیند میں توازن پیدا کرنا ہے کیونکہ اس وقت انٹرنیشنل میں چند بیٹسمین ایسے بھی ہیں جو 50 ملی میٹر کی موٹائی والے بیٹ استعمال کر کے غیرضروری طور پر فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ اکثر بلے کے کنارے سے گیند لگ کر باؤنڈری کے باہر چلی جاتی ہے اور یہ بولرز کے ساتھ ناانصافی ہے۔رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ وہ باؤنسر کے قانون میں بھی تبدیلی کے حق میں ہیں کہ باؤنسرز کی تعداد کی حد نہیں ہونی چاہیے اور یہ امپائر پر منحصر ہو کہ اگر وہ یہ دیکھے کہ بولر کا ضرورت سے زیادہ باؤنسر کرنا منفی حکمت عملی کا حصہ ہے تو وہ اسے نوبال یا وائیڈ قرار دے۔رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ آج کل زیادہ تر قوانین بیٹسمینوں کے حق میں ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*