غیر ملکی قرضے جمہوری حکومتوں کےمشرف دور سے 350 فیصد زیادہ

غیر ملکی قرضے جمہوری حکومتوں کےمشرف دور سے 350 فیصد زیادہ

ریٹائرڈ پرویز مشرف کے 9سالہ دور اقتدار میں غیرملکی قرضوں کے بوجھ میں 8ارب ڈالر جبکہ یکے بعد دیگرے 2 منتخب جمہوری حکومتوں کے حالیہ ادوار میں مجموعی طور پر 28ارب 84کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور حکومت کے مقابلے میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں کے حالیہ ادوار کے دوران عوام پر غیرملکی قرضوں کے بوجھ میں 28ارب 84کروڑ 60لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لحاظ سے بھی دونوں منتخب جمہوری حکومتیں مل کر بھی آمرانہ دور حکومت کا مقابلہ نہیں کرسکیں۔مشرف دور حکومت میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 10ارب ڈالر جبکہ حالیہ 2 جمہوری حکومتوں کے دونوں ادوار میں کل ملاکر ساڑھے آٹھ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے جس میں زیادہ تر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں پر مشتمل ہے۔پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران غیرملکی قرضوں میں 15ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور اس عرصے میں قرضوں کا بوجھ 45ارب 79کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 60ارب 90کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ن لیگ کی حکومت نے اس تسلسل کو جاری رکھا اور حکومت کے پہلے 3 سال کے دوران ستمبر 2016کے اختتام تک غیرملکی قرضوں کا بوجھ 13ارب 74کروڑ ڈالر اضافے سے 74ارب 63کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے جس وقت اقتدار سنبھالا قومی خزانے میں ایک ارب 37کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ موجود تھا جو مشرف دور کے اختتام تک 10ارب ڈالر اضافے سے 11ارب 15کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔اس کے مقابلے میں حالیہ دو جمہوری حکومتوں کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں اب تک صرف 8.5ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے ۔جو زیادہ تر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں پر مشتمل ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*