پشاور ہندو اپنے مردوں کو جلانے کی بجائے اب انہیں دفنانے لگے

پشاور ہندو اپنے مردوں کو جلانے کی بجائے اب انہیں دفنانے لگے

صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں پاکستان کے قیام سے پہلے ہزاروں کی تعداد میں آباد ہندو اقلیتی برادری اپنے مردوں کو جلانے کی بجائے اب انہیں قبرستانوں میں دفنانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ کچھ عرصہ سے ہندو کمیونٹی کے سا تھ لیے مختلف مقامات پر شمشان گھاٹ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے اب وہ اپنے مرنے والوں کو مذہبی رسومات کے برعکس یعنی جلانے کی بجائے انہیں دفنانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔خیبر پختونخوا میں تقریباً پچاس ہزار کے قریب ہندؤ کمیونٹی رہائش پزیر ہے۔ جن میں اکثریت پشاور میں مقیم ہیں۔ اس کے علاوہ فاٹا میں بھی ہندوؤں کی ایک اچھی خاصی تعداد زندگی کے مختلف شعبوں سے منسلک ہیں۔پشاور میں آل پاکستان ہندؤ رائٹس کے چئیرمین ہارون سرب دیال کا کہنا ہے کہ ان کی مذہبی رسومات کے مطابق وہ اپنے مردوں کو جلانے کے بعد ان کی راکھ کو دریا میں بہاتے ہیں لیکن چونکہ یہاں شمشان گھاٹ کی سہولت نہیں اس وجہ سے وہ مجبورًا اپنی میتوں کو دفنانے پر مجبور ہیں۔انھوں نے کہا کہ شمشان گھاٹ صرف پشاور میں ہی نہیں بلکہ صوبے کے دیگر اضلاع جہاں ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہے وہاں بھی یہ سہولت نہ ہونے کے برابر ہے لہذا کئی سالوں سے ہندؤ برادری اپنی میتوں کو دفنا رہی ہے۔آئین  کے مطابق ہم تمام پاکستانی برابر کے حقوق رکھتے ہیں اور تمام اقلیتوں کےلیے قبرستان اور شمشان گھاٹ کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے نہ صرف ہندؤ بلکہ سکھوں اور مسیحی برادری کےلیے بھی اس ضمن میں کوئی سہولیات میسر نہیں۔ہارون سرب دیال کے مطابق ہندؤں اور سکھوں کےلیے اٹک کے مقام پر ایک شمشان گھاٹ بنایا گیا ہے لیکن زیادہ تر ہندؤ غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ پشاور سے اٹک تک ٹرانسپورٹ کا کرایہ برداشت نہیں کرسکتے۔انھوں نے دعوی کیا کہ پاکستان بھر میں پہلے اقلیتوں کے لیے ہر چھوٹے بڑے شہر میں مذہبی مراکز یا عبادت گاہیں قائم تھیں لیکن بدقسمتی سے ان پر یا تو حکومت یا لینڈ مافیا کی طرف سے قبضہ کیا گیا ہے جس سے اقلیتوں کے لیے ہر طرف زمین تنگ کی جارہی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ‘پاکستان کی تمام اقلیتیں سچے اور سو فیصد پاکستانی ہیں جو اس ملک پر بچوں سمیت مر مٹنے کےلیے تیار ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جاتا جس کے ہم حقدار ہیں۔خیال رہے کہ ہندؤ برادری عیسائیوں کے بعد ملک کی سب سے بڑی اقلیت سمجھی جاتی ہے۔ ہندوؤں کی بیشتر آبادی سندھ اور پنجاب کے اضلاع میں مقیم ہے۔ خیبر پختونخوا میں پشاور کے بعد ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد کوہاٹ، بونیر، ہنگو، نوشہرہ، سوات، ڈیرہ اسمعیل خان اور بنوں کے اضلاع میں بھی رہائش پزیرہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*