سرخ مرچوں میں ایک ایسا کیمیکل جو بریسٹ کینسرروکنے میں مددگارہوتا ہے

سرخ مرچوں میں ایک ایسا کیمیکل جو بریسٹ کینسرروکنے میں مددگارہوتا ہے

بر لن:سرخ مرچ میں ایک ایسا مرکب جو  چھاتی کے سرطان کو روکنے میں بہت مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔بریسٹ کینسر کئی  اقسام کا ہے جن میں ایک ٹرپل نیگیٹو بریسٹ کینسر بھی مو جو د ہے جس کا علا ج بہت مشکل ہے  اور یہ پاکستان سمیت دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک بھیانک خواب بن چکا ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ سرخ مرچوں میں موجود کیپسیسن مرکب اس قسم کے سرطان کو بھی بڑھنے سے روکتا ہے۔ چھاتی کے سرطان کی کئی اقسام منظرِ عام پر آئی ہیں جنہیں تین ریسپٹرز کی موجودگی یا عدم موجودگی کی بنا پر تقسیم کیا جاتا ہے اور انہیں  ایسٹروجن، پروجیسٹیرون اور ایپی ڈرمل گروتھ فیکٹر ریسپٹر ٹو ( یا ایچ ای آر ٹو) کا نام دیا گیا ہے۔اگر (ایچ ای آر ٹو )پوزیٹو ہو تو اس کا بریسٹ کینسر علاج میں آسان ہوتا ہے اور اس میں دوا بھی اثر کرتی ہے۔ لیکن اگر ایچ ای آر ٹو نگیٹو ہو تو اس کا علاج مشکل ہوتا ہے اور اسے ہی ٹرپل نیگیٹو بریسٹ کینسر کہا جاتا ہے۔ اس کا علاج کیموتھراپی سے ہی ممکن ہے لیکن بہت مشکل ہوتا ہے۔جرمنی کے شہر بوشم میں روہر یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ سرخ مرچ میں پایا جانے والا ایک مرکب کیپسیسن اس لاعلاج بریسٹ کینسر کو بھی پھیلنے سے روکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرخ مرچ کا مرکب ان چینلز کو کو روکتا ہے جو ٹرپل نیگیٹو کینسر میں تیزی سے پھیلتے ہیں۔اس کے علاوہ آنتوں اور لبلبے کے سرطان میں بھی اس مرکب کو مؤثر دیکھا گیا جب کہ بعض جگہوں پر کینسر کے خلیات کو مرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔ ماہرین پر امید ہیں کہ مزید تحقیق کے بعد سخت جان بریسٹ کینسر کے علاج کی راہ کھلے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*