سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا

سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے،نواز شریف کب کب وزیر، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم رہے، عدالت نے تفصیلات طلب کرلیں، بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ کیا سرکاری عہدے کا غلط استعمال تو نہیں ہوا۔نعیم بخاری کی طرف سے وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کی استدعا پر جسٹس کھوسہ نے کہا کہ صادق اور امین کی ہم سے ایسی تشریح نا کرا دیں کہ ملک میں کوئی الیکشن ہی نا لڑ سکے۔سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے سماعت کی ۔تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل میں کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی خاندانی کاروبار پر تقاریر میں مؤقف کی تردید ان کے بچوں کے مؤقف سے سامنے آئی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ منی ٹریل کا نہیں بتایا جارہا، وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان کل تک بتائیں کہ نواز شریف کب کب وزیر، وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم رہے اور کب ملک سے باہر گئے۔جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے 1997 میں کہا کہ بزنس سے الگ ہو رہا ہوں، وہ سیاست بھی کرتے رہے اور بزنس بھی کرتے رہے۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ سوال مفادات کے تضاد کا تو نہیں کہ جب جب نواز شریف نے عہدہ سنبھالا تب تب ان کے بزنس معاملات آگے بڑھے۔تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے بچوں اور والد کے تحائف کے درمیان ٹیکس چوری ہے۔نعیم بخاری نے کہا کہ کہ فلیٹ نمبر 17 اے 7 مئی 1993 کو خریدا گیا۔جسٹس اعجازالحسن نے استفسار کیا کہ فلیٹ کس نے خریدا؟نعیم بخاری نے کہا کہ فلیٹ آف شور کمپنی نیسکول نے خریدا۔جسٹس اعجازالحسن کے اس استفسار پر کہ کیا ایسی کوئی دستاویز ہے کہ 1993 میں نیسکول کمپنی حسین نواز کی ملکیت تھی؟ نعیم بخاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ پورے کیس میں یہی ایک راز کی بات ہے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ بخاری صاحب نیلسن اور نیسکول آف شور کمپنیوں کی 2006 سے پہلے کی ملکیت ،آپ نے ثابت کرنی ہے۔نعیم بخاری نے دلائل میں کہا کہ مریم نواز آج بھی اپنے والد کے زیر کفالت ہیں۔دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ کسی کو بینچ کی ساخت پر اعتراض نہیں تو میڈیا سے مخاطب ہونے کے بجائے عدالت سے مخاطب ہوا جائے۔ایک موقع پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ میڈیا ججوں کے ریمارکس ،آبزرویشن اور سوالات کو ان کی ذاتی سوچ سے تعبیر نہ کریں۔ججوں کے سوالات کا مقصد وکلا سے اندر کی باتیں نکلوانے یا کیس کے مرکزی نکتے تک پہنچنے کے لئے ہوتے ہیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہمارے سوالات کی بنیاد پر بحث اور مباحثے نہیں ہونےچاہئیں۔ہم کسی پر قدغن نہیں لگا سکتے ۔ پروگرام ضرور ہوں لیکن ہمارے سوالات اور آبزرویشن پر نہ ہوں۔جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ہمارے سوالات اور آبزرویشن پر میڈیا پر ٹھاہ ٹھاہ کی آواز کے ساتھ سنایا جاتا ہے تو ہم خود ڈر جاتے ہیں۔دوران سماعت عمران خان نے بینچ سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہم مجبور ہو گئے ہیں ایسا کرنے پر کہ جب جوڈیشل کمیشن بنا تھا تو ہمارے خلاف حکومتی پلیٹ فارم استعمال ہوا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم سے تو وہاں کی پولیس نے براہ راست پوچھ گچھ کی۔ اپوزیشن نے تو الزام لگانے ہوتے ہیں انکوائری کرنےکے لئے ادارے موجود ہیں۔مقدمے کے ایک درخواست گزارشیخ رشید نے کہا کہ کیس پر 18 کروڑ عوام کی نظریں ہیں، اس کو کورٹ روم سے براہ راست نشر ہونا چاہیے۔کیس کی سماعت کے آغاز پر ہی بینچ کے سربراہ آصف سعید کھوسہ نے واضح کر دیا کہ سماعت میں کوئی غیر ضروری التوا نہیں دیا جائے گا اور مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے گی،کیس کی اب مزید سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے ہوگی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*