سڑکوں پرٹریفک جام یادداشت کمزوری کی وجہ

سڑکوں پرٹریفک جام یادداشت کمزوری کی وجہ

شور مچاتی موٹر سائیکلیں، رکشوں کی کھڑکھڑاہٹ، گاڑیوں کے ہارن کا نہ ختم ہونے والا شور، نہ صرف سردرد، چڑچڑے پن اور سانس کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے، بلکہ یادداشت کو بھی بری طرح متاثر کرتی ہیں۔تحقیق کے مطابق خون کی گردش کے ساتھ دماغ تک پہنچنے والا ٹریفک کا آلودہ دھواں انسانی دماغ کے خلیوں کو متاثر کرنے کا سبب بنتا ہے۔لینسٹ میڈیکل جرنل کی تحقیق کے مطابق جو لوگ ٹریفک سے بھری سڑکوں سے 50 میٹر کی فاصلے پر رہائش پذیر ہوں۔ان میں’ڈیمنشیا‘ (یا داشت کی کمزوری ) کا خطرہ مصروف سڑکوں سے 3000 میٹر کے فاصلے پر رہنے والے افراد کی نسبت 77 گنا زیادہ ہوتا ہے ۔تحقیق کے مطابق ہوائی آلودگی کی باعث آلودہ عناصر خون کی گردش میں داخل ہو کر سوزش کی وجہ بنتے ہیں جس سے دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ذیابیطس جیسے امراض کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔جبکہ یادداشت میں کمزوری ہونے کی وجہ دماغی بیماریاں ہیں۔جس میں دماغ کے خلیات متاثرصلاحیت میں کمی اور ذہنی جبلت کے انحطاط کا سبب بنتے ہیں۔ان سب وجوہات کی بنا پر متاثرہ شخص کے لیے روزمرہ کے کام سرانجام دینا کافی مشکل ہوجاتا ہے۔یادداشت میں کمزوری کا خدشہ ان شہروں کے لیے مزید بڑھ جاتا ہے جو اسموگ کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 2015 میں دنیا بھر میں ڈیمنشیا سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً 4 کروڑ 75 لاکھ کے قریب رہی جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافہ دیکھا جارہا ہے۔برطانوی یونیورسٹی کے ماہر ٹام ڈیننگ کہتے ہیں کہ یادداشت میں کمزوری کا خدشہ ان شہروں کے لیے مزید بڑھ جاتا ہے، جو اسموگ کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔سائنسدان پرامید ہیں کہ ان کی تحقیق شہری انتظامیہ کی توجہ حاصل کرنے کامیاب ہوگی اور شہری آبادیوں کو بہتر بنانے میں اس کا استعمال کیا جاسکے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*