حافظ حمد اللہ اور ماروی سرمد کی لڑائی طے شدہ اسکرپٹ کا حصہ تھی !

حافظ حمد اللہ اور ماروی سرمد کی لڑائی طے شدہ اسکرپٹ کا حصہ تھی !

 

تحریر:  محمد ناصر

جے یو آئی کےسینیٹر مولانا حافظ حمد اللہ اور سماجی ٹھیکیدار محترمہ ماروی سرمد کے ایک نجی ٹی وی چینل میں مذاکرے کے دوران بات اس قدر بڑھ گئی کہ معاملے کو سنبھالنا تقریبا نا ممکن ہو گیا نتیجہ یہ نکلا کہ مولانا صاحب اشتعال میں وہ کچھ بھی کہہ گئے جو انہیں نہیں کہنا چاہیے تھا  ۔ اس ٹاک شو کی بات تو یہاں تک ختم ہو گئی لیکن سماجی حلقوں میں ایک نہ ختم ہونےو الی بحث شروع ہو گئی ۔اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے خواتین پر “ہلکے”تشدد کی منطق کے بعد مذہبی قدامت پسندوں کے خلاف ایک طوفان سا گردش کرنے لگا ہے ۔ مولانا صاحب نے کیا کچھ کہا اسے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ “حافظ” کہلوانے والے اور مذہبی شناخت رکھنے والے ان سینیٹر صاحب نے جو کچھ کہہ ڈالا وہ ناقابل اشاعت ہے  ۔ مذہبی حلقوں کے مخصوص طرز عمل پر لبرل لابی بھی پوری طرح متحرک ہے اور مذاق اڑانے میں کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی جارہی ۔ واقعے کے بعد ماروی سرمد نے پولیس اسٹیشن سے رجوع کیا اور موقف اختیار کیا کہ حافظ صاحب نے ان کو گالیاں بھی دیں ، مارنے کی کوشش کی اور دھمکیاں بھی دیں ۔ ۔۔  سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا مولانا صاحب کو ایک عورت کے ساتھ ایسی نازیبا زبان استعمال کرنی چاہیے تھی ؟یقینی طور پر اس کا جواب نفی میں ہے ۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی ہلکے تشدد والی منطق کے بعد ملک بھر سے سخت  ردعمل پہلے ہی آچکا ہے۔ اسلام میں ہلکا یا بھاری تشدد سرے سے ہے ہی نہیں ، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض حلقے اپنی اس منطق پر اڑ گئے ہیں اور کچھ بھی سمجھنے یا ماننے کو تیارہی نہیں ۔جب ایسے مذہبی  عناصر کے خلاف تنقید خوب ہو چکی تو جوابی تناو بھی یقینی تھا اور کچھ ایسا ہی ہوا اس پروگرام میں ۔۔ جہاں حافظ صاحب نے طے شدہ اسکرپٹ کے مطابق ماروی سرمد کا نام سن کر پروگرام میں شرکت کی دعوت قبول کی۔۔ بحث کی اور پھر وہی ہوا جو پہلے سے طے شدہ تھا۔ مولانا صاحب نے اپنی نفرت کا اظہار خوب کر دیا اور ماروی سرمد کی والدہ کے بارے میں بھی نازیبا گفتگو کے ساتھ ساتھ گالم گلوچ سے بھی کام چلایا ۔ لبرل حلقوں میں جانا پہنچانا نام ماروی سرمد کا ہے جواپنے خیالات اور حسن بیان  کی وجہ سے  ٹی وی ٹاک شوز میں آتی رہتی ہیں وہ بھی یہ جانتی تھیں کہ مولانا صاحب پروگرام میں تشریف لا رہے ہیں اور یہ  ا مر بھی کسی سےڈھکا چھپا نہیں کہ مختلف نظریات کی وجہ سے ان کی بھی مولانا سے نفرت عیاں تھی ۔ دونوں ہی پارٹیاں کسی ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھیں جب آمنے سامنے کسی مذاکرے میں ایک دوسرے کی  درگت بنائی جائے ۔  ریٹنگ کے چکر میں اس پروگرام نے بھی دانستہ طور پر دونوں کو ساتھ ساتھ بیٹھا دیا ۔۔۔ بحث طول پکڑ کر اشتعالی کیفیت اختیار کرنے میں محض ایک جملہ ہی کافی ہوتا ہے  ۔ یوں تینوں پارٹیوں کے مقاصد پورے ہو گئے ۔ ان حالات میں مولانا صاحب کا قصور اس لئے زیادہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر عورٹ کے خلاف ایسی بیہودہ زبان استعمال کر گئے ۔ مذہب کسی بھی عالم ، فاضل ، رہنما یا عام شخص کو عورت پر ہاتھ اٹھانے یا گالم گلوچ کی ترغیب نہیں دیتا اس لئے کم از کم انہیں اپنی جماعت یا اپنے “حافظ” ہونے کا مان رکھنا چاہیے تھا ۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ مذہبی حلقوں اور لبرل لابی کی لڑائی کہاں تک جاتی ہے ۔ معاملہ جہاں بھی جائے یہ بات یقینی ہے کہ لوڈ شیڈنگ ، پانی کی قلت ، مہنگائی ،بیروزگاری سے پریشان عوام کو تفریح کا موقع ضرور مل گیا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*