پالنا۔۔۔ پہلی تربیت گاہ

پالنا۔۔۔ پہلی تربیت گاہ

انسان کی ارتقاء سے سیکھنے سکھانے اور  تربیت کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ بچہ ننھی کلی کے مانند ہوتا ہے جسکی مناسب دیکھ بھال اس کلی کو پھول بناتی ہے اور بعد میں تناور پیڑ بن جاتا ہے۔بچے ہمارے آنگن کے کھل کھلاتے، لہلہاتے ہنستے مسکراتے پھول ہیں۔ ہماری تربیت ہی  بچوں کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے کردار کی خوشبو سے معاشرے کو مہکائے یا کانٹے  پھیلاکر زندگیاں اجیرن کرے۔

بچے کو بچہ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے مکمل مرد و عورت بننے کے لئےبہت سفر کرنا ہوتا ہے اور اس سفر میں اس نے بہت ساری منازل طے کرنا ہوتی ہیں۔۔ یہ منازل  بالکپن، بچپن اور بلوغت کے مختلف مراحل سے گزر کے مکمل انسان بننے تک جاری رہتی ہیں ۔ بچے کو سکھانے سمجھانے کا آغاز بالکپن سے ہوتا ہے۔ بالکپن سے ہی بچے کے سونے جاگنے کھانے پینے کے اوقات مقرر کردیے جایئں تو وہ اسی معمول کا عادی ہو جاتا ہے۔  ہر انسان حتیٰ کہ بچہ بھی اپنے گردونواح کے حالات و واقعات سے اثر لیتا ہے۔ اگر گھر کا ماحول پرتشدد ہو تو بچے کی شخصیت پر  اسی طرح کر پتشدد اور بھدا  اثر پڑتا ہے، وہ جھگڑالو  یا بزدل بن جاتا ہے؛بعض اوقات تشددپسند کے روپ میں بھی سامنے آتا ہے۔یہیں سے اسکی بڑھوتری کے ساتھ ساتھ ذہنی پستی  کا وقت بھی  شروع ہو جاتا ہے۔

ماں کو بچے کی تربیت کا ذمہ دار کہا جاتا ہے جبکہ ما ں اور باپ دونوں پر ہی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بچوں کی تربیت میں کسی بھی بھول چوک یا  کوتاہی  سے گریز  کریں۔بچپن کا دورانیہ کسی بھی انسان  کا انتہائی نازک دور ہوتا ہے جس میں وہ سنورتا  اور بگڑتا  ہے۔

بالکپن کے بعد جتنی بھی منازل ہیں اس میں اس وقت کی تربیت اثر انداز رہتی ہے اور یہ پوری زندگی پر حاوی رہتی ہے ۔۔ اس لئے والدین کو چایئے جتنا اچھا ماحول دے سکتے ہیں دیں تاکہ ایک اچھا انسان بن سکے اور انسانیت کا حق ادا ہوسکے۔۔

پرورش اور نشو نما میں نہ صرف بچوں کی ذہنی صحت بلکہ انکی جسمانی صحت کا بھی برابر خیال رکھنا لازمی فعل ہے کیونکہ دونوں صورتوں کا اثر بچے کے لئے اہمیت کا حا مل ہوتا ہے۔

(تحریر: عمیرہ توقیر)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*