افغان شہری نے الیکشن میں حصہ کیسے لیا، الیکشن کمیشن کا وزارتِ داخلہ اور نادرا کو جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم

افغان شہری نے الیکشن میں حصہ کیسے لیا، الیکشن کمیشن کا وزارتِ داخلہ اور نادرا کو جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم

الیکشن کمیشن میں بلوچستان اسمبلی میں افغان شہری کے رکنِ اسمبلی منتخب ہونے کے کیس کی سماعت ہوئی، وزارتِ داخلہ اور نادرا کو حتمی رپورٹ پیش کرنے کے لیے دو ہفتے کی مہلت دے دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے حلقہ پی بی 26 سے کامیاب ہونے والے امید وار علی احمد کوہ زاد کا شناختی کارڈ نادرا نے افغان شہری ہونے کے شبے میں بلاک کررکھا ہے ، الیکشن کمیشن نے پہلے کوہ زاد پر الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی تھی تاہم بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے پر الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی تھی۔

علی احمد کا تعلق ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے اور انہوں نے 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں 5،117 ووٹ حاصل کرکے متحدہ مجلسِ عمل کے ولی محمد کو شکست دی تھی، جنہوں نے 3،342 ووٹ حاصل کیے تھے۔

نادرا نے الیکشن سے قبل ان کا شناختی کارڈ بلاک کیا تھا جس کا سبب بتایا گیا تھا کہ علی احمد کو ہ زاد اپنی شناخت کے لیے کوئی بھی قابلِ اعتبا ر دستاویز پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں اور شبہ ہے کہ وہ افغان شہری ہیں۔ شناختی کارڈ بلاک کرنے اور الیکشن میں حصہ لینے پر روکے جانے پر علی احمد نے بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی تھی۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جمع کرائی گئی ابتدائی رپورٹ پر ممبر الیکشن کمیشن ارشاد قیصر کا کہنا تھا کہ ریکارڈبتارہاہےعلی احمد نےپہلےبھی الیکشن میں حصہ لیاہے، انہوں نے استسفار کیا کہ کیا نادرا ان چیزوں کا ذمہ دار نہیں ہے؟۔

الیکشن کمیشن نے وزارت ِ داخلہ کو اس معاملے پر جامع رپورٹ مرتب کرکے پیش کرنے کی ہدایت کرنے کے ساتھ ساتھ نادرا سے بھی اس معاملے پر رپورٹ کرلی، وزارتِ داخلہ نے جامع رپورٹ پیش کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت طلب کرلیا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دو ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے وزارتِ داخلہ اور نادرا کو جامع رپورٹ مرتب کرکے پیش کرنے کا آخری موقع دیتے ہوئے سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کردی ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*