انوکھا اسٹیکر اینٹی بایوٹک ادویہ کے خلاف مزاحمت ختم کرنے میں موثر

انوکھا اسٹیکر اینٹی بایوٹک ادویہ کے خلاف مزاحمت ختم کرنے میں موثر

لندن: پاکستان سمیت پوری دنیا میں اینٹی بایوٹکس ادویہ اپنا اثر کھورہی ہیں کیونکہ ان کے مقابلے میں جراثیم، بیکٹیریا اور وائرس خود کو بدل کر اور طاقت ور بنا کر انہیں بے اثر کر رہے ہیں۔تاہم اب بہت باریک سوئیوں پر مشتمل پیوند (پیچ) سے اس عمل کو آہستہ کیا جاسکتا ہے یہ اسٹیکر نما پیچ پہلے ذیابیطس کے مریضوں میں انسولین پہنچانے اور چربی گھلانے میں کامیاب کردار ادا کرسکتے ہیں اور اب یہ اینٹی بایوٹکس کی مزاحمت کم کرنے کے لیے استعمال ہوسکیں گے۔بلفاسٹ میں واقع کوئن میری یونیورسٹی کے ماہرین نے باریک ترین سویوں (نیڈل) سے بنا ایسا جلدی پیوند بنایا ہے  جس کے ذریعے جلد میں براہِ راست اینٹی بایوٹک دوا داخل کرنا ممکن ہوگا جب کہ اس وقت عام طور پر اینٹی بایوٹک دوائیں منہ کے ذریعے جسم میں پہنچائی جاتی ہیں۔کوئن میری یونیورسٹی کے ماہر پروفیسر ریان ڈونلی کہتے ہیں،’ دنیا بھر میں اینٹی بایوٹکس ادویہ کھائی جاتی ہیں۔ ان کی تھوڑی بہت مقدار کچھ دیر معدے میں رہتی ہیں جہاں ان کا سامنا طرح طرح کے بیکٹیریا سے ہوتا ہے اور یوں جسم کے اندر بیکٹیریا اس کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے لگتے ہیں۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ مریض کو طاقتور ترین اینٹی بیکٹیریا دوا بھی شفا نہیں دے پاتی‘۔دوسری صورت میں اگر اینٹی بیکٹیریا دوا خردبینی نیڈل کے ذریعے جسم میں ڈالی جائیں تو جسم کا نظام ان سے الجھتا نہیں ہے اور اس کی تاثیر بھی بھرپور ہوتی ہے۔ پہلے دوا کو مائع کیا جائے گا اور اسے انسانی بال سے بھی باریک سویوں کے ذریعے مریض کے جسم میں داخل کیا جاسکے گا۔ اس کے بعد سویاں از خود انداز میں گھل کر ختم ہوجائیں گی اور ان کا کوئی منفی نقصان بھی نہیں ہوگا۔پہلے مرحلے میں اس پیوند کو دس کے قریب رضاکاروں پر آزمایا گیا ہے اور اس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ان رضاکاروں کو ایک فرضی دوا (پلے سیبو) دی گئی تھی۔ اب اگلے مرحلے میں ماہرین اس میں اصل اینٹی بایوٹک دوا ڈال کر اس پیوند کو آزمائیں گے۔ اگر کامیابی ملتی ہے تو ٹی بی جیسے مرض کا علاج ممکن ہوگا جس کا علاج اینٹی بایوٹک ادویہ کے بے اثر ہونے کی وجہ سے ناکامی کی جانب گامزن ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*